خواتین کو عملی تربیت اور صنعتی شراکت کے ذریعے بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے،قائم مقام صدر اسلام آباد چیمبر

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ خواتین کو عملی تربیت، ہنر مندی اور صنعتی شراکت کے ذریعے بااختیار بنانا پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔چیمبر ہاؤس میں بزنس ویمن کے وفد سے ملاقات کے دوران طاہر ایوب نے کہا کہ جدید معیشت کی تیزی سے بدلتی ہوئی ضروریات اس …

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ خواتین کو عملی تربیت، ہنر مندی اور صنعتی شراکت کے ذریعے بااختیار بنانا پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔چیمبر ہاؤس میں بزنس ویمن کے وفد سے ملاقات کے دوران طاہر ایوب نے کہا کہ جدید معیشت کی تیزی سے بدلتی ہوئی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ تعلیمی ادارے اور کاروباری شعبہ قریبی تعاون کے ذریعے طلبا، خصوصاً خواتین، کو عملی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ روزگار کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تربیت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے سے نہ صرف ان کی انفرادی ترقی ممکن ہوتی ہے بلکہ یہ قومی پیداواری صلاحیت، جدت اور معاشی لچک میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ مل کر خواتین کے لیے انٹرن شپ، صنعتی تجربے اور رہنمائی کے پروگرامز کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔طاہر ایوب نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جامع اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کی تعلیم، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل تبدیلی اور اختراعی صنعتوں سے وابستہ تربیتی پروگراموں کی سرپرستی کریں۔قائم مقام صدر نے کہا کہ آئی سی سی آئی حکومتی اداروں، تعلیمی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے ایسے پلیٹ فارمز قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے جو خواتین کو قومی معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کریں۔

طاہر ایوب نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور تکنیکی تربیت میں سرمایہ کاری محض سماجی ذمے داری نہیں بلکہ یہ طویل المدتی قومی خوشحالی اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹ کی ضروریات اور تعلیمی تربیت کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنے کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین مضبوط روابط قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

مزید خبریں