اسلام آباد۔ 02 نومبر (اے پی پی):پاکستان اسٹیٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبید الدین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرکاری رہائش کی سہولت شفاف، مؤثر اور جدید خودکار نظام کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔ اے پی پی سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ادارے کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمین کو مناسب رہائش فراہم کرنا اور الاٹمنٹ کے عمل کو جدید خطوط پر …
وفاقی ملازمین کو شفاف اور خودکار رہائشی نظام فراہم کرنے کے اقدامات جاری ہیں،ڈی جی اسٹیٹ آفس عبید الدین

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 02 نومبر (اے پی پی):پاکستان اسٹیٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبید الدین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرکاری رہائش کی سہولت شفاف، مؤثر اور جدید خودکار نظام کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔ اے پی پی سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ادارے کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمین کو مناسب رہائش فراہم کرنا اور الاٹمنٹ کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے
عبید الدین ے بتایا کہ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدا میں کراچی اور چٹاگانگ میں سرکاری مکانات تعمیر کیے گئے، جب کہ 1971ء کے بعد ادارے کو وسعت دے کر اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں دفاتر اور رہائشی کالونیاں قائم کی گئیں۔ان کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تقریباً 28,900 سے زائد سرکاری مکانات دستیاب ہیں، جن میں کراچی میں 1782، لاہور میں 1962، پشاور میں 560 اور کوئٹہ میں تقریباً ساڑھے پانچ سو رہائش گاہیں شامل ہیں۔ڈی جی اسٹیٹ آفس نے بتایا کہ اب الاٹمنٹ کا مکمل آن لائن نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین اپنی رجسٹریشن اور درخواستیں ویب پورٹل کے ذریعے جمع کر سکتے ہیں۔پ
ہلے تمام کارروائی دستی طور پر کی جاتی تھی، مگر اب یہ نظام مکمل طور پر خودکار (آٹومیٹڈ) ہو چکا ہے، جس سے شفافیت اور تیزی دونوں آئی ہیں۔عبیداللہ کے مطابق مختلف گریڈز کے ملازمین کے لیے علیحدہ رہائشی کیٹیگریز مقرر ہیں گریڈ 1 تا 4 کے لیے D ٹائپ،گریڈ 5 تا 10 کے لیے C ٹائپ،گریڈ 11 تا 15 کے لیے E ٹائپ گریڈ 16 تا 18 کے لیے F ٹائپ اور گریڈ 19 کے لیے G ٹائپ رہائش گاہیں مختص ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر کسی ملازم کا انتقال ہو جائے تو اہلِ خانہ کو اس رہائش میں قیام کی اجازت اس وقت تک دی جاتی ہے جب تک ان کے واجبات یا ریٹائرمنٹ کی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔ڈی جی اسٹیٹ آفس کے مطابق ادارے کے زیرِ انتظام کمرشل یونٹس اور دکانیں بھی موجود ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ادارے کے ریونیو میں شامل کیا جاتا ہے۔
گزشتہ سال ریونیو ٹارگٹ 93 کروڑ روپے رکھا گیا تھا، جب کہ رواں سال مزید اضافے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی الاٹی مقررہ وقت پر واجبات ادا نہ کرے تو اس کا مکان منسوخ کیا جا سکتا ہے، تاہم زیادہ تر ملازمین اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرتے ہیں۔ عبید الدین نےکہا کہ ماضی میں اسٹیٹ آفس کو عدالتوں میں کئی مقدمات کا سامنا رہا، مگر پشاور ہائی کورٹ کے 2018ء کے فیصلے کے بعد الاٹمنٹ کے عمل میں شفافیت اور تیزی آئی ہے۔اب نظام خودکار طریقے سے درخواست دہندہ کی سینئرٹی اور دستیاب رہائش کی بنیاد پر الاٹمنٹ تجویز کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں بڑی تعداد میں ملازمین ویٹنگ لسٹ پر ہیں ۔ جن میں اسلام آباد سے 22ہزار ، کراچی سے ساڑھے تین ہزار، لاہور سے ڈھائی ہزار، پشاور سے 800 اور کوئٹہ سے 400 ملازمین شامل ہیں۔ڈی جی اسٹیٹ آفس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئی رہائش گاہوں کی تعمیر پر پابندی عائد ہے، البتہ 1995ء کے بعد یہ تجویز زیرِ غور رہی کہ کچھ مالی سہولتیں فراہم کر کے ملازمین کو مارکیٹ سے کرائے کے گھر حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ عبید الدین نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ اسٹیٹ آفس کے نظام کو مکمل طور پر شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ کوئی سرکاری ملازم رہائش کی سہولت سے محروم نہ رہے۔








