گلگت بلتستان کی آزادی: غازی خداداد کی زبانی معرکۂ 1948 کی داستان

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):گلگت بلتستان کی آزادی کی تاریخ میں 1948 کا معرکہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جب مقامی غازیوں نے بھارتی فوج کے سامنے شجاعت اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی کہ دشمن بھی پسپا ہو گیا۔ اس معرکہ کی یادیں آج بھی غازی خداداد کی زبانی تازہ ہیں، جنہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔غازی خداداد نے بتایا کہ میں بھارت کے خلاف ہونے والی …

اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):گلگت بلتستان کی آزادی کی تاریخ میں 1948 کا معرکہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جب مقامی غازیوں نے بھارتی فوج کے سامنے شجاعت اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی کہ دشمن بھی پسپا ہو گیا۔ اس معرکہ کی یادیں آج بھی غازی خداداد کی زبانی تازہ ہیں، جنہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔غازی خداداد نے بتایا کہ میں بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں شریک تھا۔ گلگت کی آزادی کے بعد ہم نے سکردو، کارگل اور لداخ تک پیش قدمی کی اور جنگ بندی کے بعد واپس آئے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ آزادی میں ہمارے پاس ساز و سامان محدود تھا، مگر اللہ کی مدد اور ہمارے جوانوں کی بہادری کے باعث ہم نے دشمن کو شکست دی۔ خداداد نے مزید کہا کہ کھرمنگ اور لداخ کے محاذ پر دشمن بڑی تعداد میں موجود تھا مگر ہم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اسے پسپا کیا۔غازی خداداد نے جنگ کی مشکلات اور قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی مشکل اور صبر آزما جنگ تھی۔ پاکستان آسانی سے آزاد نہیں ہوا، ہمارے جوانوں نے اس دھرتی کے لیے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے اپنی ذاتی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے دوران میری ٹانگ میں گولی لگی، مگر میں لڑتا رہا۔ وطن کی محبت نے درد کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔غازی خداداد نے کہا کہ ہمارے کئی ساتھی آزادی کی خاطر شہید ہوئے، انہی کی قربانیوں سے آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔یہ معرکہ نہ صرف گلگت بلتستان کی تاریخ میں بلکہ پاکستان کی آزادی کی تاریخ میں بھی ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، جہاں محدود وسائل کے باوجود ایمان اور حوصلے نے دشمن کو شکست دی۔

 

مزید خبریں