حکومت زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے نوجوانوں کو جدید علم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے پُرعزم ہے ، رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے نوجوانوں کو جدید علم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں منعقدہ خصوصی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاجو کہ وزیرِ اعظم کے خصوصی استعداد کار میں …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے نوجوانوں کو جدید علم اور عملی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں منعقدہ خصوصی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاجو کہ وزیرِ اعظم کے خصوصی استعداد کار میں اضافے کے پروگرام کے تحت چین جانے والے 224 پاکستانی زرعی گریجویٹس کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ایک جدید، اختراعی اور موسمیاتی لحاظ سے مستحکم زرعی شعبہ تشکیل دیا جا رہا ہے جو ٹیکنالوجی کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی زرعی ترقی اور تبدیلی خاص طور پر بیج کی تیاری، سمارٹ فارمنگ، فصلوں کی افزائش اور لائیو سٹاک کے انتظام کے شعبوں میں کامیابیاں پاکستان کے لئے بہترین مثال ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان پیشہ ور افراد پاکستان کے زرعی مستقبل کے حقیقی سفیر ہیں، وہ نہ صرف جدید تکنیکی علم کے ساتھ واپس آئیں گے بلکہ وہ اپنے دیہی معاشرے کو بلند کرنے اور تبدیلی کی قیادت کرنے کا جذبہ بھی ساتھ لائیں گے۔

اس بیچ کے تحت 224 تربیت یافتہ شرکاء چین کی دو معروف جامعات میں خصوصی تربیت حاصل کریں گے۔ نارتھ ویسٹ ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی (این ڈبلیو اے ایف یو)، شان شی میں شرکاء کو فصلوں کی جینیاتی افزائش، ویٹرنری ادویات کی روک تھام، زرعی ذہین آلات، حیوانات کی جینیاتی افزائش اور تولید کے موضوعات پر تربیت دے گی۔ دوسرا گروپ ہوازونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی (ایچ زیڈ اے یو)، ووہان میں چنگ فا-ہیشانگ ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کمپنی کے اشتراک سے بیج کی تیاری اور پراسیسنگ پر تربیت حاصل کرے گا۔

رانا تنویر حسین نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر) اور اس کی شراکت دار اداروں بشمول ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، وزارتِ خارجہ (ایم او ایف اے)اور پاکستان کے سفارتخانے بیجنگ کی مؤثر ہم آہنگی اور تعاون کو سراہا۔ انہوں نے میرٹ پر مبنی شفاف انتخابی عمل کی بھی تعریف کی، جس کے ذریعے تمام صوبوں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پائیدار زرعی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ گریجویٹس زرعی شعبے میں جدت، پیداوار میں اضافے اور بہتری کے لئے محرک کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کے استعداد کار میں اضافے کے اس پروگرام کے تسلسل سے کئے گئے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان زرعی شعبے میں چین کے تجربات سے سیکھنے اور اس علم کو قومی غذائی تحفظ اور دیہی خوشحالی کے فروغ کے لئے بروئے کار لانے کے لئے پُرعزم ہے۔

رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعاون صرف ایک تعلیمی شراکت داری نہیں بلکہ پاک۔چین دوستی کا ایک تزویراتی ستون ہے، جو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے وسیع تر مقاصد کے مطابق ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ واپسی پر یہ گریجویٹس پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، موسمیاتی لحاظ سے موزوں طریقے اپنانے، اور زرعی برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کریں گے۔