اکیڈمی ادبیات پاکستان میں معروف شاعر انور مسعود کی سوانح عمری کی تقریبِ رونمائی

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے زیرِ اہتمام پاکستان اکادمی ادبیات (پی اے ایل )نے جمعہ کو معروف شاعر پروفیسر انور مسعود کی سوانح عمری کی تقریبِ رونمائی کاانعقاد کیا۔ تقریب اکادمی کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔یہ کتاب بعنوان ’’انور مسعود: شخصیت اور فن‘‘ ڈاکٹر محمد شعیب خان کی تصنیف ہے جو اکادمی ادبیات پاکستان نے شائع کی ہے۔ کتاب میں پروفیسر انور …

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے زیرِ اہتمام پاکستان اکادمی ادبیات (پی اے ایل )نے جمعہ کو معروف شاعر پروفیسر انور مسعود کی سوانح عمری کی تقریبِ رونمائی کاانعقاد کیا۔ تقریب اکادمی کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔یہ کتاب بعنوان ’’انور مسعود: شخصیت اور فن‘‘ ڈاکٹر محمد شعیب خان کی تصنیف ہے جو اکادمی ادبیات پاکستان نے شائع کی ہے۔

کتاب میں پروفیسر انور مسعود کی زندگی اور ان کے فن پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اپنے لطیف مزاح، گہرے سماجی شعور اور شائستہ طنز کے لئے جانے جاتے ہیں۔تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت افتخار عارف نے کی۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اور معروف شاعر انور مسعود تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔تقریب میں ممتاز ادیب ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور محمد حمید شاہد بھی بطور مہمانِ اعزاز شریک ہوئے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب پی اے ایل کی جانب سے ایک اہم ادبی موقع ہے جو پاکستان کے نامور شاعر انور مسعود کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے۔وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی نے انور مسعود کو ان کی 90ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مقررین میں عمار مسعود، ڈاکٹر فاخرہ نورین اور ڈاکٹر شعیب خان شامل تھے جنہوں نے پروفیسر انور مسعود کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے مزاح کو سماجی شعور کے ساتھ خوبصورتی سے ہم آہنگ کیا اور وہ اردو ادب کے سب سے محبوب شعری صوتوں میں سے ایک ہیں۔

تقریب کی نظامت شکیل جاذب نے انجام دی۔مشہور شاعر کے صاحبزادے عمار مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے شخص کے بیٹے ہیں جنہیں پورے پاکستان میں بے پناہ محبت حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ میں اس تقریب کا حصہ بن کر فخر محسوس کرتا ہوں جو میرے والد کی خدمات کے اعتراف میں منعقد کی گئی ہے۔تقریب کا اختتام انور مسعود کے لئے بھرپور تالیوں کے ساتھ ہوا جن کا کام آج بھی قہقہوں، غور و فکر اور اردو ادب کی عظمت پر فخر کا ذریعہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر انور مسعود کی 90ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔