27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ، اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جن نکات پر اتفاق ہوا انہیں بل میں شامل کیا جارہا ہے ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے، اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے انہیں بل میں شامل کیاگیا ہے،جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا انہیں موخر کیاگیا ہے،ججز کے تبادلوں کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے،آئینی عدالت کا قیام،فیلڈ مارشل کا …

اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے، اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے انہیں بل میں شامل کیاگیا ہے،جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا انہیں موخر کیاگیا ہے،ججز کے تبادلوں کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے،آئینی عدالت کا قیام،فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رکھے جانے کی تجاویز 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل ہیں۔

ہفتے کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی مشترکہ کمیٹی کے کو چیئرمین محمود بشیر ورک اور فاروق ایچ نائیک دیگر جماعتیں جن کی ان کمیٹیوں میں نمائندگی نہیں ان کے ارکان کو بھی اجلاس میں مدعو کریں گےتاکہ 27 ویں ترمیم کے بل کی شقوں پر سیر حاصل گفتگو ہوسکے،ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ،استحکام پاکستان پارٹی ،مسلم لیگ ق،بلوچستان عوامی پارٹی،نیشنل پارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں سے بات چیت کے بعد میثاق جمہوریت میں آئینی عدالتوں کے قیام کا وعدہ تھا.

اس پر اتفاق رائے ہوا ہے اب ایک الگ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز 27 ویں آئینی ترمیم کےبل کی صورت میں پارلیمان کے سپرد کی جائے گی جہاں بحث و تمحیص کے بعد اس پر فیصلہ ہوگا،حکومت اتحادیوں سے مل کر اس پر فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ججز کے تبادلوں پر بہت بحث ہوئی کہ اس میں وزیر اعظم صدر مملکت کو تجویز کرتے ہیں تو ایگزیکٹو کا کردار زیادہ ہےحالانکہ جس صوبے سے جج کا تبادلہ ہو رہا اور جس صوبے میں ہورہا وہاں کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مزید شفاف بنانے کے لئے یہ تجویز کیاگیا ہے کہ ججز کے تبادلے کا کام سپریم جوڈیشل کونسل کے سپرد کیاجائے اور اس میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ جس ہائی کورٹ سے جج کا تبادلہ ہونا ہےیا وہ جہاں جانا چاہتے ہیں ان دونوں کی چیف جسٹس صاحبان بھی مشاورتی عمل کا حصہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کے پی سینٹ کے الیکشن ایک سال تک التوا کا شکار رہے،سینٹ کی مدت 6 سال ہے،تین سال بعد نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی ہوتا ہے،اس ترمیم میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ سینٹ کو جو ارکان اس بار منتخب ہوئے ہیں جن کا کچھ مدت کا دورانیہ ضائع ہوا وہ بھی شامل ہو۔

چھوٹے صوبے جیسے بلوچستان یا کے پی کے وہاں کابینہ کا دیا گیا 11 فیصد تھرش ہولڈ کو 11 سے بڑھا کر 13 فیصد کیا جارہا ہے،وہاں اسمبلی کی نشستیں کم ہیں اور محکمے پورے نہیں ہوتے،وہاں پہلے پانچ نان منتخب ایڈوائزرز تھے جنہیں بڑھا کر نئے محکمہ جات کی وجہ سے 7 کرنے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں دفاعی امور ہیں،اس میں سٹریٹجک اور دفاعی سبجیکٹ پر ہمیشہ اس خطے کے ممالک میں بہت مباحثہ رہا ہے،حالیہ جنگ میں ہم نے یہ سیکھا ہے کہ جنگ کی ہیت اور حکمت عملی مکمل تبدیل ہوچکی ہے،اس حوالے سے تقرریوں کے طریق کار اور پہلے آرمی ایکٹ میں موجود عہدے تھےجن کا 1973 کے آئین میں ذکر نہیں ہوسکا،ان میں فیلڈ مارشل کا عہدہ،دنیا میں ایئر اور نیول چیف کے اس کے مساوی عہدے موجود ہیں،ان کا ذکر کرنا کرنا ضروری سمجھا گیا ہے،ان رینکس کو تاحیات ان کے ساتھ رہنے کے حوالے سے بھی تجویز شامل ہے۔

ان کی کمانڈ قانون کے مطابق ہی ریگولیٹ ہوتی رہیں گی،اس حوالے سے بھی مناسب ترامیم پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔انہوں نے وضاحت کی ایم کیو ایم نے 26 آئینی ترمیم کے وقت آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کے لئے حکومت سے رابطہ کیا تھاوہ بل کمیٹی کے پاس التوا میں تھا،موجودہ بل سینٹ میں پیش ہونے کے بعد کمیٹی میں زیر بحث آئے تو ایم کیو ایم کے بل کو بھی زیر بحث لایا جائے،ہم پوری کوشش کریں گے کہ اس کو پاس کیا جائے،حال ہی میں پنجاب سے بھی ایک قرارداد آئی ہے اس کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

ایک حلیف جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق بات کی ہے، یہ بل بھی قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے پاس ہے اس کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کے درمیان جو بات چیت ہوئی وہ انہوں نے اپنی سی ای سی میں رکھی ، جن تجاویز پر اتفاق رائے ہوا ان کو بل میں لایا جارہا ہے اور جن پر اتفاق رائے نہیں ہواان کو موخر کیا جارہا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہی تقاضا کیا کہ جن پر ہمارا اتفاق ہے اس پر ہی ترمیم لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بڑے مشکل حالات سے گزر رہا ہے،ملک کی سب سے بڑی ضرورت سیاسی ہم آہنگی،رواداری اور سیاسی استحکام ہے۔مئی میں پوری قوم نے یکجان ہوکر پاکستان کی سلامتی کے لئے دعائیں کیں اور اپنا کردار ادا کیااس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں،پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بل پیش کرنے کے بعد اس پر عام بحث ہوگی،قائمہ کمیٹی میں بحث کے بعد ایوان میں بھی اس پر عام بحث ہوگی اور دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری ہوگی۔