اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے حوالے سے کئی دن سیاسی جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی جس کے بعد آج وفاقی کابینہ نے اس ترمیمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا …
آئین کی 27 ویں ترمیم کے حوالے سے کئی دن سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس ترمیمی مسودے کی منظوری دی ہے، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے حوالے سے کئی دن سیاسی جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی جس کے بعد آج وفاقی کابینہ نے اس ترمیمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اسے مزید بہتری کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے گا تاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین اپنی تجاویز دے سکیں۔اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اس ترمیمی بل میں 49 شقیں شامل ہیں جن میں سے چالیس شقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق نکات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران یہ تجویز دی گئی تھی کہ آئینی بنچز قائم کیے جائیں کیونکہ عدالتوں کا زیادہ وقت آئینی مقدمات میں صرف ہوتا ہے،طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے جو آئینی امور سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی، اس سے اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ کم ہوگا اور آئینی تشریحات کے لیے ایک واضح فورم دستیاب ہوگا۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ ججز کے تبادلے (ٹرانسفرز) کے حوالے سے متعلقہ عدالتوں کے چیف جسٹسز اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کی جائے گی جبکہ تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ ججز کی تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے تاکہ شفاف اور غیرجانبدار نظام قائم کیا جا سکے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ آئینی ترمیم ملک کے عدالتی نظام میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی اور آئین کی بالادستی کو مزید مضبوط بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ مجوزہ ترمیم پر جامع مشاورت کے بعد ایک ایسی آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار ہو جو آئین کی تشریح اور اس کے نفاذ سے متعلق معاملات میں اعلیٰ ترین اتھارٹی کے طور پر کردار ادا کرے۔








