لاہور/شیخوپورہ۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےقومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، موجودہ حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کیلئے نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ وہ شیخوپورہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل سنٹر کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب …
تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، موجودہ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کیلئے نمایاں اقدامات کر رہی ہے،رانا تنویر حسین

مزید خبریں
لاہور/شیخوپورہ۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائےقومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، موجودہ حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کیلئے نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ وہ شیخوپورہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل سنٹر کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر محمود، ان کی ٹیم اور اہلیانِ شیخوپورہ کو مبارکباد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جہاں پاکستان کی خدمت کروں وہاں اپنے حلقے کے عوام کی بھی خدمت کروں۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، بطور وزیر تعلیم انہوں نے ملک میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے بھرپور کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی یونیورسٹیاں آج دنیا کی بہترین جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران اوپن یونیورسٹی کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور آج اس کے طلبہ کی تعداد گیارہ لاکھ سے زائد ہے۔
نئے ریجنل کیمپس میں جلد کمپیوٹر کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل سکل یونیورسٹی کا ایک کیمپس مریدکے میں جبکہ قائداعظم یونیورسٹی کا کیمپس شرقپور میں قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخوپورہ تعلیم کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور تقریبا ہر بڑی یونیورسٹی کا کیمپس یہاں فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس بھی شیخوپورہ میں قائم کیا جائے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد دنیا نے دیکھا کہ ہم ایک مضبوط قوم ہیں، اب وزیراعظم کی کوشش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بھی مستحکم ہو۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 تک نواز شریف کی قیادت میں ہم نے آئی ایم ایف کا کشکول توڑ دیا تھا، تاہم 2018 میں آنے والی تبدیلی نے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے محنت اور دانشمندی سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، دوست ممالک نے بھی پاکستان کی مدد کی۔ معیشت اب استحکام کی راہ پر ہے اور عالمی مالیاتی ادارے اس کی تعریف کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، اس کے بعد پاکستان اپنے فیصلے خود کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے اس سال گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، حکومت 62 لاکھ ٹن گندم خریدے گی جبکہ چاول کی فصل بھی ریکارڈ پیداوار کے ساتھ ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستانی چاول اور گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے، برآمدات میں اضافہ معیشت کو مزید مستحکم کرے گا۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ شیخوپورہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نئے کیمپس کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم آئندہ ہفتے کے اندر سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کر لی جائے گی اور اس پر حکومت کی تمام اتحادی جماعتیں متفق ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم میں 40 نئی شقیں شامل ہیں جبکہ 8 مزید شقیں تجویز کی جا رہی ہیں جن کے تحت آئینی عدالت کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔
26ویں ترمیم میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا تاہم اب 5 نئی شقیں لا کر یہ عدالت عملا قائم کی جائے گی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد یہ احساس ہوا کہ سنٹرل کمانڈ کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ تینوں افواج کی کمانڈ اب ایک سربراہ کے تحت ہوگی۔ ماضی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا عہدہ موجود تو تھا مگر وہ موثر کردار ادا نہیں کر رہا تھا، اب اسے مکمل اختیارات دیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق ہماری تجاویز قومی مفاد میں ہیں۔ آبادی پر قابو پانے کے اقدامات صوبوں کے اختیار میں تھے مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس لیے اب وفاق سطح پر تجاویز دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افسران کی دوہری شہریت کے خاتمے کا معاملہ بھی ترمیمی مسودے میں شامل کیا گیا ہے، اگرچہ پیپلزپارٹی نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم سے ریاستی ڈھانچے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، اس حوالے سے پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ آئینی ترامیم کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ نظام مزید موثر ہو۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو بہت سے اختیارات دیے گئے مگر وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی فی الحال ضرورت نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان ایک پرامن ہمسایہ بن کر رہے، کسی اور ملک کی پراکسی وار کا حصہ نہ بنے۔ مذاکرات کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔








