اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فلسفہ، پیغام اور عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کرنے کے لیے ادارہ برائے فروغ قومی زبان میں پاکستان ہیومن رائٹس کونسل (ایچ آر سی پی) کے زیر اہتمام ”اقبال کانفرنس“ منعقد ہوئی۔یہاں جاری بیان کے مطابق پروفیسر فتح محمد ملک نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کا خودی اور خود آگاہی کا پیغام کسی قوم یا …
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فلسفہ، پیغام اور عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کرنے کے لیے ایچ آر سی پی کے زیر اہتمام ”اقبال کانفرنس“ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فلسفہ، پیغام اور عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کرنے کے لیے ادارہ برائے فروغ قومی زبان میں پاکستان ہیومن رائٹس کونسل (ایچ آر سی پی) کے زیر اہتمام ”اقبال کانفرنس“ منعقد ہوئی۔یہاں جاری بیان کے مطابق پروفیسر فتح محمد ملک نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کا خودی اور خود آگاہی کا پیغام کسی قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری نے مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کی اور انسانیت کو زندگی کے حقیقی مقصد کی دوبارہ دریافت کی ترغیب دی۔ پاکستان ہیومن رائٹس کونسل کے چیئرمین جمشید حسین نے کہا کہ اقبال کے فلسفہ نے قوموں کو خودی اور آزادی کے جذبے سے بیدار کیا۔ان کے خیالات آج بھی نوجوانوں کو عزم، امید اور کردار سازی کی طرف رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں اقبال کا امن، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام انتہائی اہم ہے۔ دیگر مقررین نے جدید دور میں اقبال کی تعلیمات کی مطابقت پر روشنی ڈالی اور انہیں انسانیت کے لیے اخلاقی اور فکری رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا فلسفہ عالمی سطح پر اتحاد، انصاف اور انسانیت کے احترام کو فروغ دیتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانان گرامی کو یادگاری تحائف پیش کئے گئے جبکہ طلباء نے اقبال کی شاعری پر مبنی تقاریر اور مکالمے پیش کیے۔ نامور فنکار افضل نے بانسری پر اقبال کے اشعار پیش کیے جنہیں سامعین کی جانب سے خوب داد سے نوازا گیا۔ اے پی پی سے بات کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے رکن اور لائبریرین کاشف کمال نے کہا کہ اقبال کا خواب پاکستان کی بنیاد تھا اور اگر آج کا نوجوان ان کے خودی کے فلسفہ کو اپنائے تو قوم کی ترقی میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔








