اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):وزیرِ قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہاہے کہ حکومت ملکی و عالمی سطح پر اقبالؒ کی فکر کے فروغ کے لیے جامع اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ ولادت کے موقع پراپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی چیلنجز کا حل صرف فکرِ اقبال میں پوشیدہ ہے جو انسانیت، خودی، آزادیٔ فکر …
حکومتِ پاکستان ملکی و عالمی سطح پر اقبالؒ کی فکر کے فروغ کے لیے جامع اور عملی اقدامات کر رہی ہے، اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):وزیرِ قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہاہے کہ حکومت ملکی و عالمی سطح پر اقبالؒ کی فکر کے فروغ کے لیے جامع اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ ولادت کے موقع پراپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی چیلنجز کا حل صرف فکرِ اقبال میں پوشیدہ ہے جو انسانیت، خودی، آزادیٔ فکر اور عالمگیر بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے علامہ اقبالؒ کے 150 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر شایانِ شان تقریبات کے انعقاد کے لیے “150 سالہ کمیٹی” قائم کی ہے، جس میں سرکاری عہدیداران، اقبال شناس، ماہرینِ تعلیم اور محققین شامل ہیں۔
اس سلسلے میں اقبال اکادمی پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جو چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اقبالیاتی مراکز کے قیام میں معاونت فراہم کرے گی۔ پہلے مرحلے میں سیالکوٹ میں “اقبال ریسرچ اینڈ کلچرل کمپلیکس” کا آغاز کیا جا چکا ہے، جو تحقیق، تربیت اور علمی تبادلے کا مرکز ہوگا۔اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ اقبال اکادمی پاکستان، علامہ اقبالؒ کے کلام کو بین الاقوامی زبانوں میں منتقل کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔مزید برآں اقبالؒ کی کتب کے پرتگالی زبان میں تراجم کا تعارف 13 نومبر کو اکادمی ادبیات پاکستان میں کروایا جائے گا، جس میں برازیل اور پرتگال کے سفیر بھی شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت کا تہذیبی ورثہ، علامہ اقبالؒ کے افکار سمیت، محفوظ کرنا اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنا وزارتِ ثقافت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ادارۂ اقبال اکادمی اور دوسرے اداروں کے تعاون سے علامہ اقبالؒ کی فکر کو اردو زبان میں جمع و اشاعت کے ذریعے عام کریں گے تاکہ نئی نسل اقبالؒ کے پیغامِ خودی اور تعمیرِ ملت سے روشناس ہو سکے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت علامہ اقبالؒ کے افکار کو قومی تعلیمی نظام اور پالیسی میں شامل کرے گی، تاکہ نوجوان نسل اقبالؒ کے افکارِ خودی، ایمان، عمل اور استقلال سے رہنمائی حاصل کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ فن، ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے علامہ اقبالؒ کی تعلیمات یعنی خودی، آزادی اور خوداعتمادی کی روشنی میں نوجوانوں کو متحرک کریں گے۔ اس موقع پر وزیر نے کہا کہ “تاریخی مقامات، یادگاریں اور ثقافتی مراکز بحال کر کے، علامہ اقبالؒ کی روحِ انقلابی اور وحدتِ ملی کا پیغام زندہ رکھنا ہمارا مشن ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی فکرِ اقبال کو اجاگر کرنے کے لیے جامعات، تحقیقی اداروں اور اہلِ علم کے اشتراک سے علمی کانفرنسیں، نمائشیں اور مکالمے منعقد کیے جائیں گے، تاکہ مشرق و مغرب کے مابین فکری فاصلے کم ہوں اور پاکستان کا علمی و تہذیبی تشخص اجاگر ہو۔
انہوں نے کہا کہ اقبالؒ کا فلسفۂ خودی ہمیں ایمان، محنت اور خوداعتمادی سے ایک روشن، باوقار پاکستان کی تعمیر کا پیغام دیتا ہے۔ “بطورِ قوم ہمیں اقبالؒ کے افکار کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ اقبالؒ نے ملت کے نوجوانوں کو علم، کردار اور عمل کی راہ دکھائی۔اورنگزیب خان کھچی نے آخر میں کہا کہ “اقبالؒ کے افکار نے تحریکِ آزادی کو جِلا بخشی، ملتِ اسلامیہ کو خوداعتمادی اور عمل کی نئی روح عطا کی، اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بیداری، خودی اور آزادی کا پیغام دیا۔








