کراچی۔ 09 نومبر (اے پی پی):بریسٹ کینسرڈے کے موقع پر سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے زیرِ اہتمام، PASTICاورEU پروجیکٹ BIOMED5.0کے تعاون سے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی اور تعلیم پر مرکوز، کینسر کے خلاف جنگ میں علاج سے ہٹ کر نفسیات، غذائیت اور سائنس کے کردار کے موضوع پر ایک فکرانگیز سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں بریسٹ کینسر، اس کی روک …
سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام کینسر سے متعلق آگاہی کے حوالے سے سیمینار

مزید خبریں
کراچی۔ 09 نومبر (اے پی پی):بریسٹ کینسرڈے کے موقع پر سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے زیرِ اہتمام، PASTICاورEU پروجیکٹ BIOMED5.0کے تعاون سے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی اور تعلیم پر مرکوز، کینسر کے خلاف جنگ میں علاج سے ہٹ کر نفسیات، غذائیت اور سائنس کے کردار کے موضوع پر ایک فکرانگیز سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں بریسٹ کینسر، اس کی روک تھام اور علاج کے حوالے سے اہم مسائل پر بات چیت کرنے کیلئے ڈاکٹر یابندا، ڈاکٹر سندس دستگیر، ڈاکٹر قدسیہ طارق، ڈاکٹر بینا حسن، انجینئر اقصی،ڈاکٹر طاہرہ محسن، ثمر عابدی، مدثر نذیر سمیت دیگر ماہرین اور کمیونٹی کے اراکین کو مدعو کیا گیا۔اتوار کو جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب کی مہمان خصوصی ذاکر علی خان فائونڈیشن کی چیئرپرسن ارم اکبر علی خان نے چھاتی کے کینسر سے نمٹنے میں ابتدائی تشخیص اور تعلیم و شعور کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے نہ صرف صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ اس بیماری کے نتیجے میں متاثرہ خواتین اور ان کے خاندانوں کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی روزمرہ زندگی، معاشرتی تعلقات اور نفسیاتی صحت پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے معائنہ اور میموگرام سے مرض کی جلد تشخیص ممکن ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کامیاب علاج کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
ابتدائی مرحلہ میں مرض کی تشخیص ہوجانے پر زندگی بچ سکتی ہے۔اس کی روک تھا م کے لیے صحتمند طرز زندگی کا اپنانا ضروری ہے۔رکن سندھ اسمبلی شارق جمال سمیت مقررین کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں میں تو پھر بھی لوگ اس بیماری کے بارے میں جانتے ہیں، مگر دور دراز کے علاقوں میں لوگ ابھی بھی اس بیماری کے متعلق بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔بریسٹ کینسر کی شرح مستقل بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے مسلسل آگہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جسم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ظاہر ہونے کی صورت میں گھریلو نسخے یا ٹوٹکے استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نہ صرف تکنیکی تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے بلکہ صحت عامہ جیسے اہم سماجی موضوعات پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہی ہے۔ بریسٹ کینسر جیسے حساس اور اہم موضوع پر سیمینار کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے طلبہ اور معاشرے کو علم کے ساتھ شعور بھی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔








