اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):اسلام آباد کے رہائشیوں نے رواں سال شہر کی سرد صبح میں ایک باریک مگر اہم تبدیلی محسوس کی ہےصبح کے وقت شبنم کم بنتی ہے اور حدِ نگاہ میں کمی رہتی ہے، جو خطے کے موسمی رجحانات میں جاری تبدیلیوں کا پتہ دیتی ہے۔محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق صبح کے وقت شبنم جو کبھی دارالحکومت کے سرد موسم کی نمایاں خصوصیت تھی اب …
شہر میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور تعمیرات شبنم میں کمی کا باعث بن رہی ہیں،ماحولیاتی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔9نومبر (اے پی پی):اسلام آباد کے رہائشیوں نے رواں سال شہر کی سرد صبح میں ایک باریک مگر اہم تبدیلی محسوس کی ہےصبح کے وقت شبنم کم بنتی ہے اور حدِ نگاہ میں کمی رہتی ہے، جو خطے کے موسمی رجحانات میں جاری تبدیلیوں کا پتہ دیتی ہے۔محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق صبح کے وقت شبنم جو کبھی دارالحکومت کے سرد موسم کی نمایاں خصوصیت تھی اب حالیہ برسوں میں کم بنتی نظر آرہی ہے۔ شبنم میں یہ کمی اور مسلسل دھند و دھواں نہ صرف حدِ نگاہ کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ درجہ حرارت، نمی اور ہوا کی گردش میں تبدیلیوں کی علامات بھی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر خان نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شبنم زمین کے درجہ حرارت میں واضح کمی کے نتیجے میں بنتی ہے جسے گراؤنڈ لیول انورژن کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب زمین کافی ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو فضاء میں موجود نمی قطرات کی صورت میں جمع ہو جاتی ہےتاہم شہر میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور تعمیرات شبنم میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ڈاکٹرطاہر خان کے مطابق بڑھتی ہوئی کنکریٹ کی تعمیرات اور کم ہوتی سبزہ زاریاں زمین کے درجہ حرارت میں وہ کمی نہیں آنے دیتیں جو شبنم کے لیے ضروری ہے۔
اسلام آباد پہلے سرسبز اور فطری ماحول کے لیے مشہور تھا جو شبنم بننے میں مددگار تھا لیکن اب شہری پھیلاؤ والے علاقوں میں یہ عمل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے مقامی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ بہت سے پرندے غائب ہو چکے، آلودگی بڑھی اور ماحولیاتی توازن بگڑا ہے۔ غیر منصوبہ بند شہری ترقی ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے پلاننگ کے ساتھ شہری ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی زمینیں تیزی سے سکڑ رہی ہیں کیونکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور فارم ہاؤسز کے لیے زمین خریدی جا رہی ہے۔ہمیں چین کی طرح عمودی تعمیرات اپنا کر زرعی زمین بچانی چاہیے۔
دوسرے ماہر ماحولیات اور ڈیوی کام پاکستان کے سربراہ سید منیر احمد نے بھی بتایا کہ اسلام آباد میں شبنم میں کمی خطرناک اثرات رکھتی ہے۔ان کے مطابق شبنم مٹی کی نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہےخصوصاً باریک سطحی تہہ کے لیے جس پر گھاس، جھاڑیاں اور پودے انحصار کرتے ہیں۔ شبنم قدرتی مائیکرو آبپاشی کا نظام ہے۔ شبنم میں کمی سے مٹی جلد خشک ہوتی ہے، پودے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور پرندوں کو پانی کی تلاش میں دور جانا پڑتا ہے۔
انہوں نےکہا کہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے گرد جنگلات کے فرش پر نچلی سطح کی نباتات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ شبنم میں کمی، رات کے درجہ حرارت میں اضافہ اور نمی میں عدم توازن سے گھاس اور پودے مرجھانے لگے ہیں جس سے پرندوں اور کیڑوں پر مشتمل پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام آباد اپنی فطری ٹھنڈی اور تازہ صبحیں کھو سکتا ہے۔آگے کی حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “گرین کور میں اضافہ، مقامی درختوں کی شجرکاری اور اخراجات میں کمی مقامی پانی کے توازن کو بحال کر سکتی ہے۔
درخت درجہ حرارت منظم کرتے ہیں، نمی روکتے ہیں اور شبنم بننے میں مدد دیتے ہیں۔انہوں نے شہریوں اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔اگر ہم اسلام آباد کے موسم کی پہچان،ٹھنڈی صبحیں، سرسبز ماحول اور متنوع حیاتیات کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر فطری نظام بحال کرنا ہوں گے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ صبح کے وقت دھند اور آلودگی کی وجہ سے حدِ نگاہ میں کمی ٹریفک حادثات کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔
شہریوں کو دھند بھری صبحوں میں احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شہری منصوبہ سازوں کو گرین اسپیس بڑھانے اور اخراج کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ دارالحکومت کے مائیکرو کلائمیٹ کو مستحکم کیا جا سکے۔








