اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) سے منسلک مرحوم میجر (ر) امان اللہ خان کی یاد میں پیر کو تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ مقررین نے میجر (ر) امان اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جنہوں نے خدمت، حب الوطنی اور ہمدردی کو یکجا کیا ، ایک متاثر کن شخصیت جن کی …
نامور شخصیات کی جانب سے میجر (ر) امان اللہ خان کی خدمات انسانیت کو خراجِِ عقیدت

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) سے منسلک مرحوم میجر (ر) امان اللہ خان کی یاد میں پیر کو تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ مقررین نے میجر (ر) امان اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جنہوں نے خدمت، حب الوطنی اور ہمدردی کو یکجا کیا ، ایک متاثر کن شخصیت جن کی قیادت، فیاضی، اصول پسندی، اعتماد اور شفقت نے بے شمار زندگیوں کو چھوا۔
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں اظہارِ خیال کرنے والوں میں چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان، صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت، چیئرمین اخوت سٹیئرنگ کمیٹی جلیل ملک، چیئرمین آئی ایس ای ٹاورز ریئٹ مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ ہارون عِشان پِراچہ، بانی گیلپ پاکستان پروفیسر ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، اراکین بورڈ آف گورنرز آئی پی ایس ابرار احمد اور نجیب احمد، نذیر احمد وید، سینئر ریسرچ فیلو آئی پی ایس شہزاد اقبال شام، محمود احمد، جنرل (ر) فیض گیلانی اور میجر امان اللہ کے صاحبزادگان غفران امان اللہ اور جِبران امان اللہ شامل تھے۔ میجر امان اللہ جو 22 اکتوبر 2025 کو وفات پا گئے، ایک ممتاز پیشہ ور، انسان دوست اور بصیرت افروز رہنما تھے جن کی زندگی دیانت، لگن اور مقصدیت کی عکاس تھی۔
وہ تقریباً تین دہائیوں تک آئی پی ایس سے وابستہ رہے اور ادارے کی فکری اور ادارہ جاتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نیشنل اکیڈمک کونسل، بورڈ آف گورنرز، ایگزیکٹو کمیٹی اور انڈومنٹ کمیٹی کے رکن رہے جہاں ان کی سٹریٹجک بصیرت نے ادارے کی تحقیقی اور پالیسی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے چین، ترکیہ، ایران اور افریقہ کے ساتھ علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا اور توانائی، افغانستان، کشمیر اور آئی ٹی ڈویلپمنٹ جیسے موضوعات پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ ادارہ جاتی خدمات کے علاوہ، میجر امان اللہ انسانیت کی خدمت کے لئے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔
بطور چیئرمین اخوت سٹیئرنگ کمیٹی، انہوں نے شمالی پاکستان میں اسلامی مائیکروفنانس اور معاشرتی ترقی کے متعدد منصوبے متعارف کرائے۔ بطور صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (1991–92) اور بطور پہلے صدر اسلام آباد سٹاک ایکسچینج (1989–1994)، ان کی قیادت اور وژن نے معیشتی خودمختاری اور پائیدار ترقی کے لئے نئی راہیں ہموار کیں۔
مقررین نے کہا کہ وہ ایک بااصول، منکسرالمزاج اور دوراندیش شخصیت تھے، ایک ایسے رہنما جنہوں نے پیشہ ورانہ قابلیت کو انسان دوستی اور مقصدیت کے ساتھ جوڑا، وہ ایک ایسے رہنما تھے جن کی اخلاقی قیادت، نظم و ضبط، اور دوسروں کی تربیت کے جذبے نے ہر اُس شخص کو متاثر کیا جو ان سے وابستہ رہا، ان کی زندگی خدمتِ خلق، دیانت اور اجتماعی بھلائی کے لئے عمل کا ایک تابناک نمونہ ہے۔








