آئینی ترامیم پر اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہئے، شیر افضل مروت

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہاہے کہ آئینی ترامیم پر اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہئے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر شیر افضل مروت نے کہا کہ 48 شقوں میں ترامیم لائی جا رہی ہے، اس پر اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہئے تھی مگر اس کی بجائے آج ایوان میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو سے متعلق …

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہاہے کہ آئینی ترامیم پر اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہئے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر شیر افضل مروت نے کہا کہ 48 شقوں میں ترامیم لائی جا رہی ہے، اس پر اکیڈیمک گفتگو ہونی چاہئے تھی مگر اس کی بجائے آج ایوان میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظورہونا چاہئے تھی۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ کاش ہم اس ایوان کواس طرح رکھتے کہ کم سے کم ایک دوسرے کی بات کو تحمل سے سنتے، راجہ پرویز اشرف سابق وزیراعظم رہے ہیں، ان کی بات کوتحمل سے سننا چاہئے تھا۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اتنی جیلیں نہیں کاٹی ہوں گی جتنا صدر آصف علی زرداری نے اکیلے کاٹی ہیں۔