پاکستان تاقیامت قائم رہے گا، پاکستان کے بدخواہ ہمارے دشمن ہیں ، حنیف عباسی

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان تاقیامت قائم رہے گا، ماضی میں ہمارے لیڈروں نے پھانسی کا پھندا چوما، جیلیں کاٹیں، جیلیں و جلاوطنی کاٹیں لیکن کبھی پاکستان کا برا نہیں سوچا، اس وقت کچھ لوگ بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان اور اداروں کو بدنام کرتے ہیں جو افسوسناک ہے، ہم دہشت گردوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کریں …

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان تاقیامت قائم رہے گا، ماضی میں ہمارے لیڈروں نے پھانسی کا پھندا چوما، جیلیں کاٹیں، جیلیں و جلاوطنی کاٹیں لیکن کبھی پاکستان کا برا نہیں سوچا، اس وقت کچھ لوگ بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان اور اداروں کو بدنام کرتے ہیں جو افسوسناک ہے، ہم دہشت گردوں کا ان کی کمین گاہوں تک پیچھا کریں گے، افغانی جب تک پاکستان کے پرچم کی بے حرمتی اور بھارت کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا تھا ہم ان میں اور پاکستانیوں میں کوئی تفریق کرتے تھے تاہم آج وہ پاکستان پر حملہ آور ہیں، پاکستان کے بدخواہ ہمارے دشمن ہیں ۔

پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،ان کی اور شہداء کی وجہ سے دنیا میں اللہ نے ہمیں وہ عزت دی ہے جو مقام حاصل ہوا وہ پاکستان کو 78 سالہ تاریخ میں نہیں ملا،ہم ہر ایک کے جذبات کی قدر کرتے ہیں،پاکستان کی سالمیت،پاکستان پر یقین رکھنے ولاا،پہلے پاکستان کی بات کرنے والا ہمارے ماتھے کا جھومر ہے،جو پاکستان کا بدخواہ ہوگا اسے پاکستانی مانیں گے اور نہ اس کے وجود کو پاکستان میں برداشت کریں گے،پاکستان میں جو دشمنوں کی پراکسی وار کا حصہ ہیں وہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ایوان میں ذاتی اختلاف کو کبھی پاکستان پر مقدم نہیں رکھا ،اب یہ ایک ایسی مخلوق پیدا ہوگئی ہے جو چاہتی ہے کہ پاکستان میں انارکی ہو،افرتفری ہو،جلائو گھیرائو ہو اور ہمیں اقتدار مل جائے،ہم نے پاکستان کے بدلے اور اس کو جلانے اور توڑنے کی بات کرنے والا نہیں دیکھا جو اس کے بدلے اپنے اقتدار کی بات کرتا ہے،ہم نے پھانسی کا پھندہ چومنے والا اور پاکستان کے لئے جلا وطن ہونے والا دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانیوں نے جب تک پاکستان کے پرچم کی بے حرمتی نہیں کی تھی،جب تک وہ بھارت کے ساتھ نہیں کھڑے تھے،ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ پاکستانی کون اور افغانی کون ہے، اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1947 میں ہمیں نہیں مانا،1965 میں ہمارے اوپر حملہ کیا،سقوط ڈھاکہ پر کابل میں انہوں نے جشن منایا۔انہوں نے کہا کہ انہیں 44 سال سینے سے لگایا اس کا پھل یہ ملا کہ آج وہ پاکستان پر حملہ آور ہیں،کیا خیبر پختونخوا کے لوگوں کی قسمت میں یہ لکھا ہے کہ وہ خوارج کے ہاتھوں رسوا ہوتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دشمنی ان سے ہے جو پاکستان کا بدخواہ ہے،ہم نے بھی جیلیں کاٹیں،جلاوطنی کاٹی لیکن رات کی تاریخی میں بھی کبھی پاکستان کا برا نہیں سوچا،یہ دہشت گردوں کو کہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے پر نہیں آرمی،پولیس اور ایف سی پر حملہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سوات میں40 ہزار دہشت گردوں کو انہوں نے لاکر آباد کیا،سوات آپریشن میں رونگٹے کھڑی کرنے والی داستانیں ہیں،ہم ایک ایک دہشت گرد کے خلاف لڑیں گے اور دہشت گردی ترک کرنے تک لڑیں گے،افغانستان سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی ان کی کمین گاہیں ہوں گی،وہاں جاکر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے،یہ ہمارا ایمان ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہوگا ہماری سیاست ہوگی،پاکستان تاقیامت زندہ رہے گا،آج بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں،بنگلہ دیش اور آذربائیجان میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہورہے ہیں،پاکستان اس وقت دنیا میں بطور لیڈر سامنے آیا ہے،اس کے علاوہ اور کیا چاہئے کہ وہ دور واپس آئے جب امریکہ،چین سمیت دنیا ہمارے سے ناراض تھی،ہم نے نفرتوں کو ختم کیا،دشمن نے اگر پھر حماقت کی تو اسے سبق سکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ کے پی کے میں بڑے بڑے لوگ وزارت اعلیٰ کے منصب پر ماضی میں فائز رہے ،اب وہاں ایسا ایک شخص اس منصب پر فائز ہے جو بارڈر پر جام شہادت نوش کرنے والوں،مساجد کے خلاف افسوسناک گفتگو کررہا ہے۔پوٹھوہار میں شہداء کے قبرستان ہیں،ملک بھر میں شہداء کی یادگاریں ہیں،یہ کسی کی پراکسی بن کر ان کے خلاف بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں کہ کیا انہیں پاکستان مقدم ہے؟ان کو اپنے لیڈر باہر آنے کی جلدی ہے اور اسے باہر عدالتوں کے ذریعے ہی آنا ہے،باقی کوئی طریقہ نہیں ہے۔