پاکستان نے مربوط، فراست پر مبنی زری اور مالیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے ذریعے خاصا معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے مربوط ،فراست پر مبنی زری اور مالیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے ذریعے خاصا معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی تیزی سے کم ہوئی ہے اور بیرونی شعبے اور مالیاتی بفرز کو دوبارہ تشکیل دینے میں مدد ملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی کے ایک مقامی …

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے مربوط ،فراست پر مبنی زری اور مالیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے ذریعے خاصا معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی تیزی سے کم ہوئی ہے اور بیرونی شعبے اور مالیاتی بفرز کو دوبارہ تشکیل دینے میں مدد ملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کے زیر اہتمام معروف سالانہ ایکسی لینس ایوارڈز کے 22 واں ایڈیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔

جمیل احمد نے کہا کہ ملک میں نجی شعبے کے قرضوں اور سرمایہ کاری کی ضروریات کے درمیان فرق کو سرمایہ مارکیٹ کے انفراسٹرکچر اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششوں، متبادل سرمایہ کاری مصنوعات کی تیاری، ڈیجیٹل رسائی میں توسیع اور آن بورڈنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور مالی منڈیوں پر عوام کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے شفافیت میں اضافے کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ملک میں اخلاقی سرمایہ کاری کے طریقوں اور فنانشل مارکیٹ کے انفراسٹرکچر کو ترقی دینے میں سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ورچوئل خطاب کرتے ہوئے سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ میں گلوبل پارٹنرشپس اینڈ کلائنٹ سلوشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر پال موڈی نے معاشرے کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے سرمایہ کاروں میں اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیارات اور پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دینے کے سلسلے میں سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ساتھ سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کی انتھک کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے مقامی سرمایہ کاری صنعت اور اس سے آگے بھی مثبت اثرات مرتب کرنے کے حوالے سے سوسائٹی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ستائش کی اور ایوارڈ کی تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے رضاکاروں اور ان کی کوششوں کی تعریف کی۔سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کے صدر محمد عاصم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور جیتنے والوں کو مبارکباد دی۔ محمد عاصم نے کہا کہ 22 ویں سالانہ ایکسی لینس ایوارڈز میں پاکستان کے مالی شعبے میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، دیانتداری اور قیادت کا مظاہرہ کرنے والی شخصیات اور اداروں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈز اخلاقی معیارات کو تقویت دینے، مالی تعلیم کے فروغ اور سرمایہ کاری کے پیشے میں پیشہ ورانہ مہارت کی ثقافت کو فروغ دینے کے مقاصد سے سوسائٹی کی مسلسل وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں، ہم اپنے اراکین، رضاکاروں اور شراکت داروں کے ان کی مسلسل حمایت کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں اور ہم تمام ایوارڈ وصول کنندگان کو اس صنعت میں مثالی کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں سی ایف اے سوسائٹی پاکستان سے وابستہ امیدواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول اور اخلاقی مالی طریقوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔

سوسائٹی تعلیم، وکالت اور پیشہ ورانہ ترقی جیسے شعبوں میں اپنے پروگرامز کا دائرہ وسیع کر رہی ہے جو پاکستان کی فنانشل کمیونٹی میں اس کے نمایاں اور قائدانہ کردار کو مزید تقویت بخشتا ہے اور اسے ملک کے معاشی اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کو ترقی دینے کا ایک قابل اعتماد شراکت دار بناتا ہے۔

سی ایف اے سوسائٹی پاکستان، عالمی تنظیم سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ کی رکن ہے جو مالیات اور سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور ماہرین کی عالمی تنظیم ہے اور یہ دنیا بھر میں معتبر چارٹرڈ فنانشل اینالسٹ (سی ایف اے) پروگرام کی منتظم ہے۔ سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ کا مقصد ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں سرمایہ کاروں کے مفادات کو اولیت حاصل ہو، مارکیٹس بہترین طریقے سے کام کریں اور معیشتیں ترقی کریں۔ دنیا بھر کی 160 مارکیٹوں میں 190,000 سے زائد سی ایف اے چارٹر ہولڈرز موجود ہیں۔ سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ کے دنیا بھر میں 9 دفاتر ہیں اور 155 سے زیادہ مقامی رکن سوسائٹیز موجود ہیں۔