اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان سے گوشت کی برآمد پر پاکستان ملائیشیا تعاون پر کمیٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی جس میں پاکستان کے گوشت کی برآمد کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ملائیشین مارکیٹ میں مسابقتی قیمتوں کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیاگیا۔ جام کمال نے حکام کو ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ تشکیل دے کر ایک ہفتے میں …
وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی زیرصدارت پاکستان ملائیشیا میٹ ایکسپورٹ کمیٹی کا تیسرا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان سے گوشت کی برآمد پر پاکستان ملائیشیا تعاون پر کمیٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی جس میں پاکستان کے گوشت کی برآمد کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ملائیشین مارکیٹ میں مسابقتی قیمتوں کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیاگیا۔ جام کمال نے حکام کو ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ تشکیل دے کر ایک ہفتے میں حتمی رپورٹ پیش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گوشت کی برآمدات میں 200 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جانی چاہیے۔اجلاس میں وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین اور معاون خصوصی ہارون اختر خان نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی، خاص طور پر بھینس اور گائے کے گوشت کے لیے لاگت، مسابقت اور سپلائی چین لاجسٹکس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکام نے CNF (لاگت اور فریٹ) کی قیمتوں کے تعین، بھارت کے ساتھ تقابلی لاگت کے تجزیہ اور فارم سے ذبح خانے تک معیار کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کی مارکیٹ کی مسابقت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں ملائیشیا کی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 14 سے 18 ماہ کی عمر کے گروپ کے اندر بھینسوں کے انتخاب کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی اور ایک پائیدار برآمدی ماڈل کو برقرار رکھنے کے لیے نجی شعبے کے شرکاء کے لیے مارکیٹ کے اتار چڑھائو، قیمتوں کے تعین اور مراعات سے متعلق چیلنجز کو حل کیاگیا۔ پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے فارموں اور مذبح خانوں میں تکنیکی کارکردگی میں بہتری بشمول بجلی کی لاگت، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور آپریشنل کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔








