اسلام آباد ۔11نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم پر بغیر باقاعدہ انکوائری کے کوئی بھی سزا ، خواہ معمولی ہو یا بڑی عائد نہیں کی جا سکتی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ (پاسکو) …
سرکاری ملازم پر باقاعدہ انکوائری کے بغیر کوئی سزا عائد نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔11نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم پر بغیر باقاعدہ انکوائری کے کوئی بھی سزا ، خواہ معمولی ہو یا بڑی عائد نہیں کی جا سکتی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ (پاسکو) کے افسر حافظ عبدالرؤف کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔یہ فیصلہ جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن نمبر 1729-ایل/2017 میں سنایا۔
درخواست گزار حافظ عبدالرؤف پاسکو میں پروجیکٹ انچارج کے طور پر تعینات تھے جنہیں 2009ء میں مبینہ جعل سازی کے الزام میں بغیر باقاعدہ انکوائری برطرف کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے بعد ازاں برطرفی کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا تھاجس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انکوائری محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 9، 10A اور 14 کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق زندگی، منصفانہ ٹرائل اور وقارِ انسانیت کا بنیادی جزو ہے۔فیصلے میں مشاہدہ کیا گیا کہ بعض سرکاری محکموں میں یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ ملازمین کو بغیر مکمل انکوائری سزا دے دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ "عدالت چلے جائیں”۔ عدالت نے ایسے رویے کو بنیادی انصاف کے منافی قرار دیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ اگر کسی افسر کے خلاف کارروائی کی جائے تو اسے واضح الزامات، تحریری جواب دینے کا موقع، گواہوں سے جرح کا حق اور ذاتی سماعت دیے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ انکوائری کے بغیر دی گئی سزا ’’انتظامی صوابدید نہیں بلکہ من مانی‘‘ ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر الزامات متنازع ہوں یا ثبوت کی جانچ پڑتال ضروری ہو تو انکوائری کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ صرف غیر متنازعہ یا خودثابت دستاویزی شواہد کی بنیاد پر ہی انکوائری سے استثنا ممکن ہے ۔ وہ بھی تحریری وجوہات کے ساتھ۔
چونکہ موجودہ کیس میں پاسکو حکام نے ’’کافی دستاویزی ثبوت‘‘ کا حوالہ دیا لیکن کوئی مخصوص ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا، اس لیے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انکوائری کو ختم کرنا غیرقانونی اور سزا دینا آئین کے آرٹیکل 10A کی خلاف ورزی تھی۔لہٰذا سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے حافظ عبدالرؤف کو بحال کرنے کا حکم دیا، جبکہ بیک بینیفٹس (واجبات اور تنخواہوں) کا تعین محکمہ خود کرے گا۔








