اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم پر مکمل غور کیا ہے،ملک،قیادت اور اداروں کے خلاف بات کرنے پر بھرپور جواب دیا جائے گا،کئی ممالک میں صدر کو بعد از عہدہ استثنا حاصل ہے۔منگل کو 27 ویں ترمیم کو زیر غور لانے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی …
پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم پر مکمل غور کیا ہے،کئی ممالک میں صدر کو بعد از عہدہ استثنا حاصل ہے،رکن قومی اسمبلی شازیہ مری

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم پر مکمل غور کیا ہے،ملک،قیادت اور اداروں کے خلاف بات کرنے پر بھرپور جواب دیا جائے گا،کئی ممالک میں صدر کو بعد از عہدہ استثنا حاصل ہے۔منگل کو 27 ویں ترمیم کو زیر غور لانے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہماری جماعت کی قیادت کو 27 ویں ترمیم کے حوالے سے اعتماد میں لیا ۔پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس بلا کر اس پر غور کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کی شکل میں جو ترامیم تھیں اس کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے پہلے عوام کو پھر سی ای سی میں پارٹی کو اعتماد لیاگیا۔
یہ اجلاس دو روز تک جاری رہا اس میں جو فیصلے ہوئے اس بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا۔اس سے پیپلز پارٹی کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں سپیکر نے سب جماعتوں کو اعتماد میں لیا کہ اس ترمیم کی منظوری میں پارلیمانی طریقہ کار کو مدنظر رکھا جائے گا۔اس کو قانون وانصاف کی مشترکہ قائمہ کمیٹی میں زیر بحث لانے کا تصور دیا گیا ۔ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی میں میراتھن اجلاسوں میں عرق ریزی کے بعد اس بل کو منظور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے ریفرنڈم میں اس کے حامی جمہوری عمل کو سمجھنے سے قاصر ہیں،ان کو جب حکومت دی گئی تھی تب درجنوں بلز لائے جاتے تھے جنہیں یہ کہا جاتا تھا کہ اسے پڑھا ہوا سمجھا جائے ۔
اس دور میں پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں مختلف نوعیت کے آرٹیکلز شامل ہیں،ہم ان سے باخبر ہیں کیونکہ ہماری پارٹی کی سطح پر اس پر غور کیاگیا ہے۔سینٹ سے منظور ہونے کے بعد یہ بل یہاں آیا ہے اس پر اعتراض ہوسکتا ہے تاہم اس پر بحث پاکستان اور اس کے آئین کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو عزت دینے کی بات ہم طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن یہاں پرایک لیڈر کی جانب سے ان کو سبق سکھانے،جیلوں میں ڈالنے،ان کے اے سی بند کروانے کی بات کی گئی۔انہوں نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ 3 اپریل 2022 کو کس اختیار سے انہوں نے اسمبلی تحلیل کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں ایک بجٹ سیشن میں حکومت اپوزیشن پر کتابیں اچھال رہی تھی،یہ ان کے لیڈر کی تربیت کی وجہ سے تھا جو کبھی کابینہ اجلاس سے اٹھ جاتا تھا، جو غرور اور تکبر ہم نے اس دور میں دیکھا وہ اس دور میں نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فوج ہمارا قومی ادارہ ہے،اس پر تنقید افسوسناک ہے،ذوالفقار علی بھٹو پر تہمتیں لگانے والے درست تاریخ کا مطالعہ کریں۔گزشتہ روز ان کی جدوجہد پر متفقہ قرار داد اس ایوان سے منظور کی گئی،اس پر ایوان کے شکر گزار ہیں۔بھٹو کی خدمات کا سب کو ادراک ہے،بے نظیر پہلی مسلمان خاتون حکمران بنیں دنیا ان پر فخر کرتی ہے،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم انہیں سمجھتے نہیں۔انہوں نے کہا سیاسی انتقام ہماری ترجیحات ہوتی ہیں اس لئے ہم میں تفریق ہے،اپنی بات کہنے اور سننے کے لئے سیاسی سازگار ماحول رکھنا ضروری ہے،ملک،قیادت اور اداروں کے خلاف بات کرنے پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کو استثنادنیا کے ہر ملک میں ہے،روس میں صدر کی فیملی کو بھی یہ استثنا حاصل ہے،آصف علی زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے صدراتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس دیئے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 میں چین کے صدر کے دورے کا راستہ روکا گیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی طرح دیگر ممالک کے سربراہان کے ساتھ بھی کیاگیا۔شازیہ مری کے کہا کہ کسی سربراہ کو پاکستان آنے سے روکنے سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ ایسا مشورہ دینے والے ایڈوائزر درست نہیں تھے،نیب کے ساتھ بیٹھ کر یہ اپنے دور میں پریس کانفرنسیں کرتے تھے،صدر کو ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنے پر سر پر تلوار لٹکنے کا کھٹکا نہیں ہونا چاہیے۔ہم نے اس بل کی کئی ترامیم سے اتفاق نہیں کیا جن میں صوبائی خودمختاری کا خاتمہ شامل تھا۔
دہری شہریت پر غلط بیانیہ دیا جارہا ہے، یہ تجویز آئی تھی کہ سول سرونٹ کی دہری شہریت زیر غور ہے،اس میں د ہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کا ذکر نہیں ہے۔اپوزیشن ارکان وفود میں شامل ہوکر دورے کرتے ہیں تاہم کمیٹی میں نہیں آئے۔ ہم پارلیمانی عمل سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں ، خیبر پختونخوا میں حکومت وہاں کے عوام کے مسائل پر روشنی ڈالنے کی بجائے پاکستان کے خلاف باتیں کرنے میں مصروف ہے،انہیں وہاں کے عوام کو مسائل پر بھی غور کرنا چاہیے۔








