مقامی حکومتوں کے بغیرجمہوریت کاتصورنامکمل، قومی تشخص،وفاق اورپاکستانیت سے متعلق امورپرتوجہ دیناضروری ہے، وزیردفاع خواجہ محمدآصف کاقومی اسمبلی میں اظہارخیال

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ مقامی حکومتوں کے بغیرجمہوریت کاتصورنامکمل ہے، قومی تشخص،وفاق اورپاکستانیت سے متعلق امورپرتوجہ دیناضروری ہے، دفاع اورقرضوں کی ادائیگی پورے ملک کا معاملہ اورمشترکہ نصب العین ہے۔ منگل کوقومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث کے دوران وزیردفاع نے کہاکہ جمہوریت کاتصوربنیادی جمہوریت کے بغیرمکمل نہیں ہوتا، جب تک اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوتے جمہوریت نامکمل ہے،18ویں ترمیم کے بعداختیارات …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ مقامی حکومتوں کے بغیرجمہوریت کاتصورنامکمل ہے، قومی تشخص،وفاق اورپاکستانیت سے متعلق امورپرتوجہ دیناضروری ہے، دفاع اورقرضوں کی ادائیگی پورے ملک کا معاملہ اورمشترکہ نصب العین ہے۔ منگل کوقومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث کے دوران وزیردفاع نے کہاکہ جمہوریت کاتصوربنیادی جمہوریت کے بغیرمکمل نہیں ہوتا، جب تک اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوتے جمہوریت نامکمل ہے،18ویں ترمیم کے بعداختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں باوردی آمروں نے مقامی حکومتوں کانظام متعارف کرایا، ان کے فوائد اورنقصانات پربحث ہوسکتی ہے، ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کانظام دیا، ضیاالحق اورجنرل مشرف نے بھی بلدیاتی نظام دئیے تاہم جمہوری ادوارمیں اس حوالے سے پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کے بغیروفاق بھی مضبوط نہیں ہوگا،ہم سب جمہوریت کانعرہ لگاتے ہیں لیکن ہماراکلچر اورڈی این اے جمہوری نہیں ۔مقامی حکومتیں پاکستان اورعوام کے مفاد میں ہیں، میری درخواست ہے کہ مقامی حکومتوں کوٹیکس کے اختیارات دیے جائیں اس سے صوبوں اوروفاق پربوجھ کم ہوجائے گا اورڈسٹرکٹ وسٹی گورنمنٹ کے پاس وسائل آسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طاقت اوراختیارات پہلے مرکز کے پاس تھے اور اب صوبائی حکومتوں کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغان جہاد کےلئے پاکستان میں نصاب تبدیل کیاگیا،یہاں پریونیورسٹی آف نیراسکا کانصاب متعارف کیاگیا، اسی نصاب کوپڑھتے ہوئےایک نسل جوان ہوئی ، ملک میں کہیں بھی ایک جیساتاریخ اورجغرافیہ نہیں پڑھایا جاتا، پاکستان کی وفاقی شناخت اورپاکستانیت کےلئے بھی کام ہونا چاہئے،گوادر اورچترال میں یکساں نصاب ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپرپاورکے مفادات کےلئے جوکچھ پڑھایا جاتا رہاہے اس کا اس سرزمین اورمذہب کوئی تعلق نہیں ، اس نصاب سے انتہاپسندی اورپرتشدد ذہنیت نے جنم لیا، قبضوں کی زمینوں پرمساجد اورمدارس بن رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہاکہ قومی تشخص،وفاق اورپاکستانیت کےلئے ان امورپرتوجہ دیناضروری ہے، دفاع اورقرضوں کی ادائیگی پورے ملک کا معاملہ اورمشترکہ نصب العین ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ امورملک اورملت سے متعلق ہیں اوران پرپوری پارلیمان کوتوجہ دینی چاہیے۔وزیردفاع نے کہاکہ قوم کوپیغام دیناچاہیے کہ ہم ایک ہی ہیں ، حالیہ جنگ میں پوری قوم متحد تھی، ہمیں ایک قوم کے طورپراپنی شناخت دینا ہے اوراسے آئینی تحفظ بھی دینا چاہیے۔