اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر 18 ویں ترمیم ادھوری ہے،وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہےکہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر 18 ویں ترمیم ادھوری ہے،اس ترمیم میں منتخب لوکل گورنمنٹ اداروں کو با اختیار بنانے کی بات کی گئی ہے،این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو تو حصہ مل جاتا ہے تاہم ضلعی سطح پر اس کے ثمرات نہیں پہنچتے،جلد 28 ویں ترمیم کی شکل میں …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہےکہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر 18 ویں ترمیم ادھوری ہے،اس ترمیم میں منتخب لوکل گورنمنٹ اداروں کو با اختیار بنانے کی بات کی گئی ہے،این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو تو حصہ مل جاتا ہے تاہم ضلعی سطح پر اس کے ثمرات نہیں پہنچتے،جلد 28 ویں ترمیم کی شکل میں یہ ترمیم آئین کا حصہ ہوگی۔

منگل کو قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم سینٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 140 اے پر ہماری تجاویز پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔26 ویں آئینی ترمیم سے پہلے ہم نے اس حکومت میں شامل ہونے پر کوئی مطالبات نہیں رکھے تھے،ہم نے صرف یہی ایک آئینی ترمیم مسلم لیگ ن کے سامنے رکھی اور اسی ایک نکاتی ایجنڈا پر ہم حکومت میں شامل ہوئے،آرٹیکل 140 اے کی تشریح کا ہمارا مطالبہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم،وفاقی کابینہ،پنجاب اسمبلی اور دیگر جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس پر ہماری حمایت کی۔دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی میں آدھا دن اس ترمیم پر بحث ہوئی،کچھ جماعتوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا جس کے بعد یہ 27 ویں ترمیم کا حصہ نہیں بن سکی۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے یہ ترمیم جلد 28 ویں ترمیم کی شکل میں سامنے آئے گی اور آئین کا حصہ بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ترمیم صوبائی امور سے متعلق ہے،آرٹیکل 140 اے کے تحت 18 ویں ترمیم میں منتخب لوکل گورنمنٹ کو اختیار دینے کی بات شامل ہے،ہماری ترمیم کا مقصد این ایف سی ایوارڈ سے صوبے سے ڈسٹرکٹ کی سطح پر حصے کی منتقلی ہے، یہ ہم سب کے فائدے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت ہے وہ اس پر ہمارے موقف کو سنے،یہ پورے پاکستان کے لوگوں کو ان کی دہلیز پر اختیارات کی منتقلی کی بات ہے۔اس پر اپنے اختلافات الگ رکھ کر اس پر غور کریں۔انہوں نے کہا کہ اس کا فائدہ کوئی ایم کیو ایم کو ہی نہیں سب کو ہوگا۔اس ترمیم کو مانا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے من وعن وہی بات کی ہے جو ہم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم اس کے بغیر ادھوری ہے،اگر کل کوئی 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرے گا تو ہمارے جیسے لوگ کہیں کہ اس میں ہمارے لئے کچھ نہیں ہے۔اس کی جڑیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 140 اے کی ترمیم پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے،لوگوں کو اختیار اور وسائل دینے پڑیں گے۔