اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی ضلعی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک عوام کو آسان، شفاف اور تیز تر انصاف کی فراہمی کی جانب ایک تاریخی اور عوامی مرکزیت پر مبنی اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ای کورٹ سسٹم کے قیام، عدالتی نظام …
عدالتی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی عوامی سہولت کے لیے تاریخی قدم ہے ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی ضلعی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک عوام کو آسان، شفاف اور تیز تر انصاف کی فراہمی کی جانب ایک تاریخی اور عوامی مرکزیت پر مبنی اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ای کورٹ سسٹم کے قیام، عدالتی نظام کی خودکاریت (آٹومیشن)اور ڈیجیٹلائزیشن پر پیش رفت کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، چیئرمین نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید رشید، سینئر ایڈووکیٹ سید علی ظفر (بطور نمائندہ ایس سی بی اے)، سیکرٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن ضرار ہاشم خان، چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر، رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل لغاری، ڈائریکٹر جنرل (ریفارمز) فخر زمان، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن سیدہ تنزیلہ صباحت سمیت وزارت آئی ٹی اور سپریم کورٹ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) اس اصلاحاتی عمل کی قیادت کرے گی جبکہ تمام متعلقہ اداروں اور فریقین کو اس میں شامل کیا جائے گا تاکہ یہ اصلاحات جامع اور پائیدار ہوں۔وزارت آئی ٹی کے سیکرٹری نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے ڈیٹا گورننس اور سائبر سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ وفاقی حکومت نے اپنے نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کے تحت نو (9) شعبوں کو ترجیح دی ہے جن میں قانون و انصاف کا شعبہ بھی شامل ہے۔
چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فوکس گروپ ڈسکشنز کا انعقاد کرے تاکہ نظام کے ڈیزائن کو عدالتی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ ان مشاورتوں کے بعد وزارت آئی ٹی ایک تفصیلی چیک لسٹ تیار کرے گی جس میں انفراسٹرکچر، کنیکٹیویٹی اور دیگر بنیادی تقاضوں کا جائزہ شامل ہوگا۔چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگست 2026ء تک ملک بھر کی تمام عدالتیں سولر انرجی پر منتقل کر دی جائیں گی اور انہیں ای لائبریری، خواتین کی سہولت مراکز اور صاف پانی کی فراہمی جیسی سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا اگلا بڑا سنگ میل مکمل طور پر مربوط "ای کورٹ ایکو سسٹم” کا قیام ہے، جو ملک بھر کی عدالتوں کو ایک محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے جوڑے گا۔








