اعلیٰ تعلیم و سائنس پر بین الاقوامی مکالمہ او آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ میں مستقبل کا روڈمیپ پیش

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پاکستان میں او آئی سی کی ذیلی ادارے کامسٹیک کے زیراہتمام اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم و سائنس پر بین الاقوامی مکالمہ" مستقبل کا روڈمیپ" کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، جامعات کے سربراہان اور سفارتی برادری کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک میں اعلیٰ تعلیم، سائنس …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):پاکستان میں او آئی سی کی ذیلی ادارے کامسٹیک کے زیراہتمام اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم و سائنس پر بین الاقوامی مکالمہ” مستقبل کا روڈمیپ” کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، جامعات کے سربراہان اور سفارتی برادری کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک میں اعلیٰ تعلیم، سائنس اور اختراع کے فروغ کے لئے جامع حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر جمہوریہ ماریشس کی سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر بی بی امینہ فردوس گریب فکیم نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش نئے چیلنجز بالخصوص موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے تحفظ اور توانائی کی منتقلی سے نمٹنے کے لئے سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم میں عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو نوجوان نسل کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے اختراعی نظام میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سینئر مشیر کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، فطرت اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان تعلق تیزی سے مضبوط ہورہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آئندہ نسلوں کو ایسی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہے جو انسان اور مشین کے باہمی تعاون پر مبنی ہوں۔ چیئرمین نالج اسٹریمز پروفیسر ڈاکٹر سید سہیل حسین نقوی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جامعات معیشت کی ترقی اور اختراعی انقلاب کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو محض تدریسی اداروں کے بجائے معاشرتی اور معاشی ترقی کے مراکز میں تبدیل ہونا چاہئے۔کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مکالمے کا مقصد تعلیم میں مساوات، معیار کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لئے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور سائنس وہ طاقتور ترین ذرائع ہیں جن سے غربت، بھوک، بیماری اور ماحولیاتی مسائل جیسے عالمی چیلنجز پر قابو پایا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج معاشی و سماجی ترقی قدرتی وسائل پر نہیں بلکہ علم اور اختراع پر منحصر ہے۔ چین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کس طرح تعلیم اور سائنس نے وہاں کی معیشت کو مضبوط کیا اور لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔ انہوں نے جامعات سے اپیل کی کہ وہ آئندہ نسل، خصوصاً جنریشن الفا، کو اختراع، تخلیقی سوچ اور عمر بھر سیکھنے کے قابل بنائیں۔

تقریب کا اختتام مشیر برائے سائنس پالیسی کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار کے کلماتِ تشکر سے ہوا جس کے بعد شرکاء نے گروپ فوٹو اور ہائی ٹی میں شرکت کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر ڈاکٹر بی بی امینہ فردوس گریب فکیم نے او آئی سی-کامسٹیک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اسلامی ممالک میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زراعت، تعلیم، طب، بحری علوم اور توانائی کے شعبوں میں اشتراکِ عمل بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسلامی دنیا پائیدار ترقی کے ہدف کو حاصل کرسکے۔

مزید خبریں