حکومت پانی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی ،زرعی معیشت کے تحفظ اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت پانی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، بین الصوبائی تعاون اور پائیدار انتظامی حکمت عملیوں کے ذریعے زرعی معیشت کے تحفظ اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وزیر اعظم …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت پانی کی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، بین الصوبائی تعاون اور پائیدار انتظامی حکمت عملیوں کے ذریعے زرعی معیشت کے تحفظ اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وزیر اعظم کی ٹاسک فورس برائے آبی قلت اور اس کے ربیع و خریف فصلوں پر اثرات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزارت آبی وسائل، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت منصوبہ بندی، واپڈا، صوبائی محکمہ جات آبپاشی اور آبی وسائل کے انتظامی اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

منگل کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں آنے والے ربیع اور خریف سیزن کے لیے موجودہ اور متوقع آبی دستیابی کے منظرناموں پر تفصیلی غور اور بھارت سے آنے والے آبی بہائو کے تازہ ترین اعداد و شمار اور گزشتہ چند سالوں میں ان کے تغیرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ زیر زمین پانی کی تیز رفتار کمی اور اس کے قومی غذائی تحفظ و زرعی پیداوار پر اثرات پر بھی زیر بحث رہے۔

اجلاس میں پانی کی زیادہ منصفانہ اور موثر تقسیم کے لیے مختلف پالیسی آپشنز اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینے، آبی وسائل کے بہتر انتظام، مانیٹرنگ اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی زور دیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو پانی کی تقسیم کے معاملے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تمام علاقوں کو ان کا جائز اور طے شدہ پانی کا حصہ فراہم کیا جانا چاہیے، جیسا کہ قومی فریم ورک اور منصوبوں میں طے کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، بین الصوبائی تعاون اور پائیدار انتظامی حکمت عملیوں کے ذریعہ زرعی معیشت کے تحفظ اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔