چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے مراکش کی مجلسِ مشیران کے صدر اُولد اراشید کی ملاقات

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے مراکش کی مجلسِ مشیران کے صدر اُولد اراشید نے سپیکر کانفرنس کے دوران ملاقات کی ۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے معزز مہمان اور ان کے وفد کا پُرتپاک استقبال کیا اور بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں ان کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مراکش کی بھرپور شرکت نے کانفرنس …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے مراکش کی مجلسِ مشیران کے صدر اُولد اراشید نے سپیکر کانفرنس کے دوران ملاقات کی ۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے معزز مہمان اور ان کے وفد کا پُرتپاک استقبال کیا اور بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں ان کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مراکش کی بھرپور شرکت نے کانفرنس کی افادیت میں اضافہ کیا ہے جو بین الپارلیمانی تعاون کے فروغ کے لئے دونوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کانفرنس کا عنوان ’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘ پاکستان اور مراکش کے مشترکہ اہداف کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اخوت، ایمان اور تاریخی رشتے ان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، مراکش کے ساتھ پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے یاد دلایا کہ پاکستان اور مراکش کے تعلقات 1952 سے قائم ہیں جب پاکستان نے مراکش کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں بھرپور حمایت کی تھی۔انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی دوستی گروپس اور پارلیمانی کمیٹیوں کی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ باہمی تعاون کے لئے ایک مضبوط اور پائیدار فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے مابین جنوب-جنوب تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم توازن، غذائی تحفظ اور پائیدار امن جیسے چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مراکش کی میزبانی میں منعقدہ تیسرے جنوبی-جنوب پارلیمانی مکالمہ فورم میں پاکستان کی سرگرم شرکت کو سراہا اور کہا کہ ایسے فورمز پارلیمانی سفارتکاری کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی )ایک جامع اور دور اندیش پلیٹ فارم ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر پارلیمانی تعاون کو فروغ دیتا ہے اور امن، انصاف اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مراکش کے تعمیری کردار اور اس کے افریقی و علاقائی سفارتی تجربے نے اس مکالمے کو مزید نتیجہ خیز بنایا ہے۔

انہیں یقین ہے کہ آئی ایس سی جیسے پلیٹ فارمز پاکستان اور مراکش کے درمیان پارلیمانی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور باہمی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔دو طرفہ تجارت پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ مالی سال 2024 میں پاکستان کی مراکش کو برآمدات تقریباً 0.028 ارب امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 0.604 ارب ڈالر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے پاس تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام، ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے ) کی شروعات اور تجارتی وفود کے تبادلے کی تجویز دی تاکہ ٹیکسٹائل، زراعت، دواسازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چمڑے اور کھیلوں کے سامان کے شعبوں میں نئی راہیں تلاش کی جا سکیں۔

انہوں نے زراعت، قابلِ تجدید توانائی، فوڈ پراسیسنگ اور معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور منصوبہ جات کے امکانات کو بھی سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے “Look Africa Policy” (افریقہ کی جانب نظر) کے تحت 2017 میں متعارف کرائی گئی پاکستان کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی نے پاکستان کے افریقہ، بشمول مراکش، کے ساتھ سیاسی و معاشی روابط کو وسعت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مراکش کا جغرافیائی محلِ وقوع اور افریقی یونین میں فعال کردار پاکستان کے لئے افریقی منڈیوں تک رسائی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مراکش کے پائیدار سیاحت کے ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے ثقافتی تبادلے، مشترکہ سیاحتی مہمات، ماہرین کی نشستوں اور کلچرل وِییکس کے انعقاد کی تجاویز دیں۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں کے تبادلہ پروگرام شروع کرنے اور ویزا سہولیات میں آسانی پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور مراکش کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور اسلامی اخوت پر مبنی ہیں۔ پاکستان ان تعلقات کو تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری اور ثقافت کے شعبوں میں مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک، دیگر جنوبی ممالک کے ساتھ مل کر، امن، رواداری اور بقائے باہمی کے عالمی بیانیے کو فروغ دیتے رہیں گے۔