جوناگڑھ پاکستان کا حصہ ہے ، ریاست کے خودمختار نواب نے قائداعظم کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ،حکومت بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ، مقررین کا "یوم سیاہ جونا گڑھ ” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):ریاست جموں و کشمیر و ریاست جوناگڑھ دونوں اقوام متحدہ میں زیر التواء تنازعات ہیں اور حکومت پاکستان ان علاقوں پر بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ، جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے، اس کے تمام اثاثہ جات پر پاکستان کا حق ہے، بھارت جونا گڑھ سے جو معدنیات نکال رہاہے اور اس سے جو معاشی فوائد حاصل کر رہا ہے وہ عالمی قوانین …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):ریاست جموں و کشمیر و ریاست جوناگڑھ دونوں اقوام متحدہ میں زیر التواء تنازعات ہیں اور حکومت پاکستان ان علاقوں پر بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ، جونا گڑھ پاکستان کا حصہ ہے، اس کے تمام اثاثہ جات پر پاکستان کا حق ہے، بھارت جونا گڑھ سے جو معدنیات نکال رہاہے اور اس سے جو معاشی فوائد حاصل کر رہا ہے وہ عالمی قوانین کیخلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ تمام وسائل پاکستان کے ہیں، اگر ان معدنیات کو نکالنے کے بھارت کسی انٹرنیشنل کمپنی سے ڈیل کرے تو قانونی طور پر پاکستان کے پاس حق ہے کہ اس ڈیل کے خلاف اپنی آواز بلند کرے اور عالمی فورمز پر اپنا اعتراض جمع کرائے ، اسی طرح اگر بھارت جوناگڑھ میں کسی مسجد یا مسلم پراپرٹی کو نقصان پہنچائے تو اس کے خلاف اپنے قانونی حق کیلئے پاکستان کو عالمی فورمز پر آواز اٹھانی چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے مسلم انسٹیٹیوٹ  کے زیر اہتمام منگل کو یہاں "یوم سیاہ جونا گڑھ ” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مقررین میں معروف قانون دان احمر بلال صوفی ، نواب آف جونا گڑھ علی مرتضیٰ خانجی ، میجر جنرل (ر) زاہدمحمود ، پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد اور صاحبزادہ سلطان احمد علی تھے جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر عبدالباسط مجاہد نے سر انجام دیئے، سیمینار کا مقصد  یو م ریاست سیاہ جونا گڑھ کے مسئلہ کو اجاگر کرنا تھا۔ مقررین نے مزید کہا کہ جامعات میں مسئلہ جونا گڑھ پر تحقیق ہونی چاہیئے تاکہ انٹرنیٹ پر بھارتی پراپیگنڈا کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔

ریاست جوناگڑھ کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے اسلام آباد میں "جوناگڑھ ہائوس” کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ نہ صرف ریاست جوناگڑھ پر ہمارے تاریخی اور قانونی دعوے کو برقرار رکھا جا سکے، بلکہ عوام میں اس مسئلہ کے بارے میں آگاہی بھی پیدا کی جا سکے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق نواب آف جوناگڑھ کی قانونی حیثیت "سوورین اِن ایگزائل” (Sovereign in Exile) کی ہے جو آج بھی برقرار ہے ۔ مقررین نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصے تک ریاست جوناگڑھ پاکستان کا حصہ رہی، 15 ستمبر 1947ء کو ریاست کے قانونی حکمران اور خودمختار نواب، نواب محابت خانجی نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جوناگڑھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے ساتھ باضابطہ الحاق کرنے والی پہلی نوابی ریاست تھی۔ جوناگڑھ کے حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فروری اور مارچ 1948ء میں مسئلہ اجاگر کیا ۔ اسی طرح 29 مئی 1951ء کو وزارت خارجہ پاکستان نے دوبارہ واضح کیاکہ ’’ریاست جموں و کشمیر اور ریاست جوناگڑھ دونوں اقوام متحدہ میں زیر التوا تنازعات ہیں اور حکومت پاکستان ان علاقوں پر بھارت کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔‘‘ مقررین نے ریاست کے سابق نواب ، نواب محمد جہانگیر خانجی مرحوم کی جوناگڑھ کے مسئلہ کو زندہ رکھنے اور اسے اجاگر کرنے کے حوالے سے کی گئی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے جانشین نواب علی مرتضیٰ خانجی بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسئلہ جونا گڑھ کو ملکی اور بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کریں گے۔

آخر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جوناگڑھ کے مسئلہ کو زندہ رکھنے کے لیے پوری پاکستانی قوم بالخصوص میڈیا، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور دیگر تمام ادارےاپنا کردار ادا کریں تاکہ جوناگڑھ کے مسئلہ کو قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا جا سکے۔