پاکستان ہارٹیکلچرڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اورسٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے شعبہ باغبانی کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد

سرگودھا۔ 14 نومبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف سرگودھا کے کالج آف ایگریکلچر کے شعبہ باغبانی نے پاکستان ہارٹیکلچر ڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے “سٹرس کی کٹائی، بعد از کٹائی دیکھ بھال، اور برآمدی تیاری” کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد سٹرس کے معیار کو بہتر بنانے، کیڑوں اور بیماریوں کے مسائل پر قابو پانے، اور مؤثر لاجسٹکس اور ہینڈلنگ کے ذریعے …

سرگودھا۔ 14 نومبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف سرگودھا کے کالج آف ایگریکلچر کے شعبہ باغبانی نے پاکستان ہارٹیکلچر ڈیویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور سٹرس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے “سٹرس کی کٹائی، بعد از کٹائی دیکھ بھال، اور برآمدی تیاری” کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد سٹرس کے معیار کو بہتر بنانے، کیڑوں اور بیماریوں کے مسائل پر قابو پانے، اور مؤثر لاجسٹکس اور ہینڈلنگ کے ذریعے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کے لیے جدید حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔اس موقع پر سٹرس کے کاشتکاروں، محققین اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔ مقررین نے جدید باغبانی طریقوں، بہتر کٹائی اور بعد از کٹائی تکنیکوں کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پھلوں کا معیار برقرار رہے، نقصانات میں کمی آئے اور عالمی مارکیٹ کے معیار پر پورا اترا جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر راشد مختار بلال نے اعلان کیا کہ جامعہ سرگودھا کا شعبہ باغبانی کاشتکاروں کو خالص، بیماریوں سے پاک سٹرس کے پودے فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صحت مند اور اعلیٰ معیار کی سٹرس اقسام کی کاشت کو فروغ دینا ہے، جس سے سٹرس کی صنعت مضبوط ہوگی اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا سٹرس سیکٹر زیادہ پائیدار، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی بن سکے۔پی ایچ ڈی ای سی کے نمائندے خاور نے کہا کہ پاکستان کی سٹرس صنعت کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی بنانے کے لیے پیداوار اور بعد از کٹائی انتظام کے جدید اور مؤثر طریقے اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہمارا مقصد کاشتکاروں کو جدید تکنیکوں سے آگاہ کرنا اور برآمدی معیار کو بہتر بنا کر پاکستان کی ساکھ مضبوط کرنا ہے۔

ورکشاپ میں مختلف علاقوں سے آئے سٹرس کے کاشتکاروں نے اپنے مسائل پیش کیے جن میں کیڑوں کا حملہ، کٹائی کے بعد کی بیماریاں، اور مارکیٹ سے متعلق مشکلات شامل تھیں۔ ماہرین نے ان مسائل کے عملی حل پیش کیے اور بیماریوں کے مربوط کنٹرول، پھل کی درجہ بندی، اور بہتر پیکنگ کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ۔