اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تنظیم ڈھانچے کی تشکیل نو کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پنجاب ریجن میں انتظامی تبدیلیاں لاتے ہوئے اسے چار زونز،جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب، وسطی پنجاب اور الگ لاہور ریجن میں تقسیم کیا جائے گا۔یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے پنجاب …
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے پنجاب اور بلوچستان کے امور کا جائزہ اجلاس منعقد

مزید خبریں
اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تنظیم ڈھانچے کی تشکیل نو کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پنجاب ریجن میں انتظامی تبدیلیاں لاتے ہوئے اسے چار زونز،جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب، وسطی پنجاب اور الگ لاہور ریجن میں تقسیم کیا جائے گا۔یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے پنجاب اور بلوچستان کے امور کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اس موقع پرانہوں نے کہا کہ این ایچ اے کے نئے ڈھانچے کے تحت ملک بھر میں نئے ممبرز تعینات کیے جائیں گے تاکہ نگرانی کوموثر بنایا جائے اور عملی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکے۔وفاقی وزیر مواصلات کو موٹروے ایم-5 کی بحالی پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ جلال پور پیروالا سیکشن (ایک جانب) کی مکمل بحالی 30 نومبر تک کر دی جائے گی۔اجلاس میں این ایچ اے کے ممبر بلوچستان نے صوبے کے وسیع ترین شاہراہی نیٹ ورک اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر مواصلات نے ہدایت کی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے کسی بھی مالی ضیاع کا جائزہ لیا جائے اور تمام ریجنز میں سخت احتساب کو یقینی بنایا جائے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ ملک بھر میں نئے ٹول پلازوں کے ڈیزائن کو یکساں رکھا جائے اور انہیں صرف اُن مقامات پر تعمیر کیا جائے جہاں ٹریفک کے بہاؤ سے مناسب آمدنی کا جواز موجود ہو۔ انہوں نے سیکریٹری مواصلات کو موثر مانیٹرنگ کے لیے ہفتہ وار فیلڈ کے دوروں کی ہدایت بھی کی۔
معیار اور یکسانیت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ این ایچ اے میں یونیفارم اسٹینڈرڈز نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور اسلام آباد-مری ایکسپریس وے پر جاری کام کو مستقبل کے منصوبوں کے لیے ایک ماڈل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آمدن محنت طلب کام ہے، لیکن اخراجات پلک جھپکتے میں ہو جاتے ہیں، اس لیے خرچ پر سخت نگرانی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ چند بار بار ہونے والے امورجیسے "پیچ ورک” اور گھاس کی کٹا ئی کا موثر آڈٹ مشکل ہے اور اکثر غیر ضروری بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ ارکان کو ہدایت دی کہ وہ مل بیٹھ کر ایک واضح اور شفاف میکنزم تیار کریں تاکہ ہر خرچ کی مکمل جانچ پڑتال ممکن ہو سکے۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کو ایک معزز اور باوقار ادارہ بنایا جانا چاہیے، جس پر مالی بے ضابطگیوں کا کوئی سایہ نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے دفاتر کی حالت اور ظاہری معیار بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ ادارے کا وقار ملک بھر میں بلند ہو۔اجلاس میں سیکریٹری مواصلات اور پنجاب و بلوچستان ریجن کے اراکین نے شرکت کی۔








