اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):لوک ورثہ میں نمائشی ثقافتی سرگرمیاں نویں روز بھی کامیابی سے جاری رہیں، فیملیز ، نوجوانوں ، طلبہ ، سفارتکاروں اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد نے میلے کا رخ کیا۔شرکاء نے صوبائی پویلینز کا دورہ کیا۔ہنر مند خواتین سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی کھانوں کا لطف اٹھایا جو پاکستان کے ثقافتی تنوع کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں ۔ ویک اینڈ پر ریکارڈ …
لوک ورثہ میں نمائشی ثقافتی سرگرمیاں نویں روز بھی کامیابی سے جاری ،شہریوں کی بھرپور شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):لوک ورثہ میں نمائشی ثقافتی سرگرمیاں نویں روز بھی کامیابی سے جاری رہیں، فیملیز ، نوجوانوں ، طلبہ ، سفارتکاروں اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد نے میلے کا رخ کیا۔شرکاء نے صوبائی پویلینز کا دورہ کیا۔ہنر مند خواتین سے ملاقاتیں کیں اور علاقائی کھانوں کا لطف اٹھایا جو پاکستان کے ثقافتی تنوع کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں ۔ ویک اینڈ پر ریکارڈ ٹرن آئوٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ لوک میلہ ملک کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مقبول کثیر الثقافتی میلہ ہے۔خیبر پختونخوا کی میوزیکل نائٹ میں مختلف فنکاروں نےشاندار فن کا مظاہرہ کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ پروگرام کا آغاز زیک آفریدی اور بختیار خٹک کی روح پرور گائیگی سے ہوا جنہوں نے اپنی بھرپور آوازوں سے ماحول کو گرما دیا ۔

ابھرتی ہوئی فنکارہ ثنا تاجک نے اپنی خوبصورت گائیگی سے لوگوں کو مسحور کر دیا جبکہ راج دلی نے روایتی موسیقی کے رنگ پیش کئے جو خاص طور پر لوک موسیقی کے شائقین کو بے حد پسند آئے۔اسٹیج کی میزبان فاطمہ نازش نے اپنی پرجوش میزبانی سے پورے پروگرام کو رواں رکھا ۔ لوک میلے کے نویں روز کا سب سے یادگار لمحہ شاہد علی خان قوال گروپ (10رکنی ٹیم ) کا زبردست قوالی پروگرام تھا جس سے پورااسٹیڈیم تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔ ان کی روحانی اور وجدانی قوالی حاضرین کے لئے ناقابل فراموش تجربہ بنی ۔پروگرام میں مزید خوبصورتی کا اضافہ آرزوناز کی دلکش اور جذباتی گائیگی نے کیاجنہیں حاضرین کی جانب سے پرجوش داد ملی ۔

لائیو میوزک بینڈ ، جس میں سیکسو فون ، بینجو، رباب ، ہارمونیم اور طبلہ شامل تھے نے ہر پرفارمنس کی موسیقی کو مزید دلنشین بنا دیا اور پورے ماحول کو ایک اصل لوک موسیقی کی روح بخشی ۔لوک ورثہ انتظامیہ نے زبردست عوامی شرکت پر اپنے عزم کا اظہار کیا ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد وقاص سلیم نے لوگوں کے بے پناہ تعاون اور محبت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ لوک ورثہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کی روایات ، فن اور کاریگروں کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
لوک میلہ ہرگزرتے دن کے ساتھ مزید مقبولیت اور جوش و خروش حاصل کر رہاہے اور یہ میلہ بلاشبہ سال کا سب سے بڑا ثقافتی ایونٹ بن چکا ہے ۔ آنے والے دنوں میں مزید موسیقی کی محفلیں ، ثقافتی رنگ اور خاندانوں کے لئے تفریحی سرگرمیاں میلے کی رونق کو مزید دوبالا کریں گی ۔ واضح رہے کہ یہ میلہ کل اتوار رات 10بجے تک جاری رہے گا ۔








