اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین و قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی کنونشنز کی بنیادی روح، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اورتحمل و برداشت کا پیغام لیے ہوئے ہے،تحمل و برداشت نہ صرف معاشرتی حسن ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے،آئین پاکستان بھی ہر شہری کو برابری اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شہری …
سماجی و مذہبی تفرقوں کو ختم کرنا اور اقلیتوں کی قومی دھارے میں ہر ممکن شمولیت حکومتی ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم شہبازشریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین و قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی کنونشنز کی بنیادی روح، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اورتحمل و برداشت کا پیغام لیے ہوئے ہے،تحمل و برداشت نہ صرف معاشرتی حسن ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے،آئین پاکستان بھی ہر شہری کو برابری اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شہری کا بھی یہ فرض عین ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے ساتھ برداشت و بردباری کی اقدار کو فروغ دے،حکومتی پالیسی کو مرتب کرتے وقت سماجی و مذہبی تفرقوں کو ختم کرنا اور تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کی قومی دھارے میں ہر ممکن شمولیت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ بات وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تحمل و برداشت کے عالمی دن 16 نومبر 2025کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی ۔وزیراعظم نے کہا کہ آج تحمل و برداشت کے عالمی دن پر پاکستان اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر انسانی کردار کی اس خاصیت کو اجاگر کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور عالمی برادری ہمدردی، پرامن بقائے باہمی، احترام اور تحمل و برداشت کی مشترکہ انسانی خاصیت سے وابستہ ہیں۔ یہ دن انسانی کردار کے اس خاصہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ برداشت کرنے کی روش کمزوری نہیں بلکہ حکمت، صبر، انسانیت اور کردار کی مضبوطی کا مظہر ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کا آئین و قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی کنونشنز کی بنیادی روح، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اور تحمل و برداشت کا پیغام لیے ہوئےہے۔
انہوں نے کہا کہ تحمل و برداشت نہ صرف معاشرتی حسن ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے، اسلامی تعلیمات ہمیں مختلف عقائد، مذاہب، تہذیب و تمدن کو برداشت کرنے اور انکے ساتھ عزت و وقار سے برتاؤ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیغمبر آخر الزماں رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت، رواداری و برداشت کی اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی،اسلامی اصول اورتمام عالمی قوانین، بنیادی انسانی اقدار کی اہمیت کو مقدم رکھتے ہوئے بلا تفریق رنگ و نسل انسانوں کے لئے برابری کے حقوق کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کثیر الجہت ثقافت، تہذیب و روایات اور مختلف زبانیں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہیں اور یہی بحیثیت قوم پاکستان کا حسن ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آئین پاکستان بھی ہر شہری کو برابری اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شہری کا بھی یہ فرض عین ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے ساتھ برداشت و بردباری کی اقدار کو فروغ دے۔ حکومتی پالیسی کو مرتب کرتے وقت، سماجی و مذہبی تفرقوں کو ختم کرنا اور تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کی قومی دھارے میں ہر ممکن شمولیت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی برداشت کی حکمت عملی پر کاربند ہے اسی تناظر میں اٹھائے گئے عملی اقدامات میں پارلیمنٹ سے اقلیتوں کے حقوق کا بل 2025 بھی منظور کیا گیا ہے، جس سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ ، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور موثر عمل درآمد کو یقینی طور پر مدد ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ تحمل و برداشت جیسی نیک اقدار کو نہ صرف ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی بلکہ سیاسی، مذہبی اورتہذیبی روایات کا بھی حصہ بنائیں۔آئیےخاندان ،معاشرے اور حکومتی سطح پر اس کی ترویج و فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ نہ صرف ہم موجودہ معاشرے کی اصلاح کر سکیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہم آہنگی، محبت، برداشت اور بھائی چارے اور اتحاد کا سنہری درس دیں۔








