موسمیاتی بحران محض مالی معاونت کا معاملہ نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے، ہم گرین ٹرانزیشن اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے لیے پرعزم ہیں،وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا کوپ 30 کے موقع پر ہائی لیول کلائمیٹ فنانس ڈائیلاگ سے کلیدی خطاب

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران محض مالی معاونت کا معاملہ نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے، ہم گرین ٹرانزیشن اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو برازیل کے شہر بیلیم میں جاری …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی بحران محض مالی معاونت کا معاملہ نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے، ہم گرین ٹرانزیشن اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو برازیل کے شہر بیلیم میں جاری کوپ -30 کے موقع پر منعقدہ ہائی لیول کلائمیٹ فنانس ڈائیلاگ میں خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان ہندوکش۔قراقرم۔ہمالیہ کے خطے کے دامن میں واقع ہے جہاں تقریباً 13 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں، یہ دریائے سندھ کے نظام کو پانی فراہم کرتے ہیں جو ملک کی ماحولیاتی اور معاشی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عالمی گرین ہاؤس گیسز میں شراکت ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی خطرات میں پاکستان مستقل طور پر دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح کیا کہ موسمیاتی بحران محض مالی معاونت کا معاملہ نہیں بلکہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ عالمی موسمیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ دراصل وہ قرضہ جات ہیں جو بنیادی طور پر تعلیم، صحت، انسانی ترقی اور دیگر پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے لیے مختص تھےلیکن انہیں اب قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے طویل المدتی ترقیاتی اہداف شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے عزم کا مظاہرہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ موزوں، قابلِ رسائی اور منصفانہ موسمیاتی مالی معاونت فراہم کی جائے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہم گرین ٹرانزیشن اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان اپنے نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشنز ( این ڈی سیز) پر فعال طور پر عمل پیرا ہےتاہم ترقی پذیر ممالک کے آگے بڑھنے کے لیے شراکت داری اور منصفانہ مالی معاونت ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے عالمی قیادت، مالی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ مستقبل کے لیے متحد ہوں، نہ صرف بڑھتی ہوئی مالی معاونت بلکہ نئی اور صاف ٹیکنالوجیز کے تبادلے کے ذریعے بھی تاکہ ترقی پذیر معیشتیں پائیدار مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔یہ ڈائیلاگ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس میں بین الاقوامی ماہرینِ مالیاتِ آب و ہوا اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بیز) کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ڈائیلاگ کا مقصد موسمیاتی مالی معاونت میں اضافے کے لیے مضبوط عالمی مطالبہ اجاگر کرنا، ترقی پذیر ممالک کے لیے معاونت کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانا، حساس ممالک تک مالی وسائل کی بروقت فراہمی تیز کرنا اور عالمی شراکت داریوں و اتحادوں کو مزید مضبوط بنانا تھا۔