ایچ ایس اے 15ویں انٹرنیشنل ہیلتھ کانفرنس 18 نومبر کو ہو گی، وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال افتتاح کریں گے

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے زیر اہتمام پاکستان میں عالمی سطح کی 15ویں انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ کانفرنس 18 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی جبکہ وائس چانسلر اکیڈمی شہزاد علی خان نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کانفرنس میں صحت عامہ میں پائیدار اصلاحات، تحقیق اور پالیسی میں نئی جہتیں متعارف کرائی جائیں گی۔یہاں جاری بیان کے مطابق کانفرنس کا عنوان "نئی نسل کی …

اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے زیر اہتمام پاکستان میں عالمی سطح کی 15ویں انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ کانفرنس 18 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی جبکہ وائس چانسلر اکیڈمی شہزاد علی خان نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کانفرنس میں صحت عامہ میں پائیدار اصلاحات، تحقیق اور پالیسی میں نئی جہتیں متعارف کرائی جائیں گی۔یہاں جاری بیان کے مطابق کانفرنس کا عنوان "نئی نسل کی ڈھال: ون ہیلتھ، ویکسینیشن، نوجوانوں کی صحت اور موسمیاتی تبدیلی”ہے ۔

کانفرنس کا افتتاح وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کریں گے۔کانفرنس پاکستان میں عوامی صحت، وبائی امراض ، نوجوانوں کی صحت، ویکسینیشن، کلائمٹ چینج اور ماحولیاتی سلامتی کے مستقبل پر عالمی معیار کے مباحث کا اہم فورم ثابت ہوگی۔ اس میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین، پالیسی ساز اور محققین شریک ہوں گے تاکہ موجودہ اور مستقبل کے صحت عامہ کے چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔

ایچ ایس اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ یہ کانفرنس ون ہیلتھ ماڈل کے ذریعے پاکستان میں وباؤں سے تحفظ، ماحولیاتی خطرات، غذائیت اور ہیلتھ سکیورٹی کو ایک مشترکہ قومی حکمت عملی میں ضم کرنے کی جانب تاریخی قدم ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کا تحفظ ہی پاکستان کا اصل مستقبل ہے۔ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بتایا کہ افتتاحی سیشن میں عالمی اور قومی ماہرین جن میں یو این آئی ایف سی، ڈبلیو ایچ او، ایف اے او اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نمائندے شرکت کریں گے۔

سیشن میں ون ہیلتھ ورک فورس کی ترقی، غذائی تحفظ، موسمیاتی خطرات اور امیونائزیشن پروگرام جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ کانفرنس معلوماتی اور تحقیقی نقطہ نظر سے نہ صرف اہم ہے بلکہ نوجوان محققین کے لیے تربیتی پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر شہزاد علی خان کے مطابق یہ ایونٹ پاکستان کی پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کو عالمی سطح پر مضبوط بنائے گا اور مستقبل کی صحت عامہ کی پالیسیوں کے لیے واضح سمت فراہم کرے گا۔