اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):اسلام آباد میں گزشتہ منگل کو جوڈیشل کمپلیکس کے قریب پیش آنے والے دل سوز واقعہ نے شہر کے ماحول کو سوگوار کر دیا تاہم یہاں کے باسیوں نے خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور تمام تر دکھ اور کرب کے باوجود زندگی پھر سے لوٹ آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکے میں 12 جانیں ضائع ہوئیں اور 27 زخمی …
سانحہ جوڈیشل کمپلیکس، اسلام آباد کے باسیوں کا خوف کے سامنے جھکنے سے انکار ،تمام تر دکھ اور کرب کے باوجود زندگی پھر سے لوٹ آئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16نومبر (اے پی پی):اسلام آباد میں گزشتہ منگل کو جوڈیشل کمپلیکس کے قریب پیش آنے والے دل سوز واقعہ نے شہر کے ماحول کو سوگوار کر دیا تاہم یہاں کے باسیوں نے خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور تمام تر دکھ اور کرب کے باوجود زندگی پھر سے لوٹ آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکے میں 12 جانیں ضائع ہوئیں اور 27 زخمی ہوئے لیکن جیسے ہی دھویں کے بادل چھٹےایک اور منظر سامنے آیا،پولیس افسران، وکلاء اور عام شہری مل کر مزاحمت میں کھڑے ہو گئے، نقصان کا درد لئے ان کا اتحاد اسلام آباد کی سب سے مضبوط ڈھال بن گیا۔پمز ہسپتال میں غم اور فخر کا امتزاج ہے،مائیں دعائیں مانگتی ہیں،بیوائیں روتی ہیں اور خاندان انتظار کرتے ہیں۔
پولیس یونیفارم، وکلاء کا سیاہ کوٹ اور عام شہری غم میں مبتلا ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ایک پولیس اہلکار عمران حیدر نے کہا کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو کھو دیا لیکن ہمارا عزم نہیں ٹوٹا، یہ یونیفارم تحفظ کا وعدہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکہ کے وقت میں زمین پر گرا لیکن ڈیوٹی درد کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔رمنہ پولیس سٹیشن کے سینئر افسر صفدر علی نے کہا کہ ہماری ٹیم نے حملہ آور کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔پمز میں زیرعلاج زخمی اے ایس آئی ارشاد کے ساتھی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ دکھ نوکری کا حصہ ہے لیکن ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ اپنے گھر کی کفالت کرنے والا معصوم نوجوان تنویرجو دھماکے میں شہید ہوا،ایک خاموش، محنتی بچہ جو جوڈیشل کمپلیکس کے قریب پارکنگ ایریا میں گاڑیاں دھوتا تھا تاکہ اپنے خاندان کی مدد کر سکے۔
پولیس نے بتایا کہ وہ گولڑہ کے قریب مہر آبادی میں رہتا تھا اور گزشتہ ایک سال سے وکلاء اور یہاں آنے والوں کی گاڑیاں دھوتا تھا۔ایک پولیس افسر نے اے پی پی کو بتایا کہ تنویر آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کا واحد کفیل تھا۔وہ سارا دن گاڑیوں سے دھول صاف کرنے میں گزارتا تھا، چند سو روپے کماتا تھا،مگر ایک لمحے میں دہشت گردی کی دھول نے اس کی اپنی زندگی نگل لی۔ اس کی کہانی نے شہر کو گہرا زخم دیا۔ایڈووکیٹ سیف ذوالفقار عباسی نے اے پی پی کو بتایا کہ دہشت گردوں نے "انصاف کے دل پر حملہ کیا، لیکن "وہ سچائی کو خاموش نہیں کر سکتے۔”انہوں نے ایڈووکیٹ زبیر اسلم گھمن کو خراج عقیدت پیش کیا، جو دھماکے میں شہید ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹے پہلے گھمن نے سپریم کورٹ میں وکالت کی خوشی میں فیملی کورٹ میں مٹھائی تقسیم کی،زبیر ہمت اور انصاف کی علامت تھے، ان کا خون ہمارے عزم کو مضبوط کرتا ہے،جھوٹ ہمیں توڑ نہیں سکتا،سو بار آزماؤ، ہم ڈٹے رہیں گے۔
پمز کے ایک ڈاکٹر نے اے پی پی کو بتایا کہ زخمیوں میں کچھ بہتر ہیں، کچھ کی حالت نازک ہے لیکن ان کی ہمت ہمیں امید دیتی ہے۔ پولیس ترجمان ابرار حسین نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ جب میں شہداء کے نام لکھتا ہوں، میرے ہاتھ کانپتے ہیں، ان کا خون یہ یونیفارم مقدس بناتا ہے۔ریسکیو 1122 اور الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیمیں فوری موقع پر پہنچیں۔صدر الطاف شیر نے اے پی پی کو بتایا کہ ہم منٹوں میں پہنچے اور زخمیوں کو فوری طور پر منتقل کیا۔جنرل سیکریٹری طیب صدیقی نے کہا کہ ہمارے رضاکار رات بھر ڈیوٹی پر رہے، خاندانوں کو اپنے پیاروں کی تلاش میں مدد کی۔شہری محمد نوید نے کہا کہ دھماکے نے مجھے زمین پر گرا دیا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے بچایا اور شہداء کے لیے دعا کرتا ہوں۔
ایس ایس پی (آپریشنز) کیپٹن (ر) علی رضا قاضی نے اپنی فورس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمت نے لاتعداد جانیں بچائیں۔ دہشت گردی جیت نہیں سکتی۔ اسلام آباد پولیس ہر شہری کی حفاظت کرے گی۔رات گئے تک لوگ پمز کے باہر جمع ہوئے، کھانا، پانی اور خاموش دعائیں پیش کرتے رہے۔ایک ماں نے سرگوشی میں بتایا کہ میرا بیٹا دوسروں کو بچاتے ہوئے مر گیا۔ میں سوگوار ہوں، لیکن فخر کرتی ہوں۔ایک اور وارث کا کہنا تھا کہ یہ قربانیاں پاکستان کے لیے ہیں۔ ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،اسلام آباد زخمی ہے لیکن امید زندہ ہے۔
پولیس ڈیوٹی پر،وکلاء عدالتوں میں، شہری دعاؤں میں ہیں، نفرت سے جنم لینے والے اس سانحے نے پاکستان کی حقیقی طاقت ظاہر کر دی، ایمان، ہمت اور اپنی سرزمین سے محبت ان کا محور ہے۔وہ ہمارے جسموں کو زخمی کر سکتے ہیں، لیکن ہماری روح کو کبھی نہیں۔ ہمارے شہداء کا خون اس زمین کو مقدس اور ناقابل تسخیر بنا دیتا ہے۔دو دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ہزاروں جانیں قربان کیں۔ فوجی، پولیس افسران، وکلاء اور شہری۔ ہر سانحہ نشان چھوڑتا ہے، مگر قوم مضبوط کھڑی ہے، خوف کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے۔دہشت گردی کا ہر عمل پاکستان کے امن کی حفاظت اور انہیں تباہ کرنے والوں کو شکست دینے کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔اتھارٹیز نے حملے کے کلیدی سہولت کاروں کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور سی ٹی ڈی کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار بھی کر لیا۔یہ یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی امن کے لیے ہمارے عزم کو نہیں توڑ سکتی۔








