پی ٹی آئی کا دور حکومت ملکی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا ، احسن اقبال

لاہور/نارووال ۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے، جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی،ایک "اناڑی شخص" کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ …

لاہور/نارووال ۔16نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے، جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی،ایک "اناڑی شخص” کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو نارووال میں پنجاب ٹریکٹر سکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے بانی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا گیا، اس کے خلاف سازش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں ایک "اناڑی شخص” کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پاکستان کی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا جاتا ہے،جس میں نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور مہارت کے بجائے صرف گالی گلوچ کی سیاست سکھائی گئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر پہلے ہی لکھا تھا کہ اگر اس شخص نے ان پر بہتان لگایا تو اللہ اسے نشان عبرت بنائے گا اور آج وہ شخص اڈیالہ جیل میں عبرت کا نشان بن کر بیٹھا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 190 ملین پائونڈ کے کیس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کو 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جس کے بعد وہی پیسہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی میں آج بھی قیدی نمبر 804 کے نعرے لگاتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیدی نمبر 420 ہے کیونکہ اس نے ملک سے دھوکہ دہی کی ہے۔ وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کا جیل نمبر تبدیل کرکے 804 کے بجائے 420 کر ے۔احسن اقبال نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں ملک کا انتظام توہم پرستی، ٹونے ٹوٹکے اور کالے جادو سے چلایا جاتا رہا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہائوس میں بکروں کی سریاں جلائی جاتی تھیں اور ملک کی پالیسیوں کا انحصار فال نکالنے پر تھا، جو ایک ایٹمی طاقت کے لیے باعث شرم ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو لوگ ایسے مداری گر کے پیچھے چلتے ہیں، انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے کبھی یونین کونسل تک نہیں چلائی، وہ نیا پاکستان بنانے چلا تھا اور آج 14 سال کی سزا کے بعد جیل میں موجود ہے۔احسن اقبال نے پی ٹی آئی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں سزا یافتہ شخص کی رہائی کے نعرے لگانا بے شرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کے لیڈر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا "ڈاکو” قرار دیا جا چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ ملک کے ساتھ مبینہ دھوکہ دہی کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی کا جیل نمبر 420 رکھ دیا جائے۔