اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’سماجی علوم میں اختراعات اور بین المضامین حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر تیسری2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے سماجی علوم میں معیاری تحقیق، جدید رجحانات اور عملی حل پر مبنی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے خطاب میں کہا کہ اختراع صرف ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ …
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’سماجی علوم میں اختراعات اور بین المضامین حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’سماجی علوم میں اختراعات اور بین المضامین حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر تیسری2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے سماجی علوم میں معیاری تحقیق، جدید رجحانات اور عملی حل پر مبنی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے خطاب میں کہا کہ اختراع صرف ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیچیدہ سماجی مسائل کے حل کے لئے مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ضروری ہے اور تحقیق کو کمیونٹی اور معاشرے کی حقیقی ضروریات سے جوڑنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شعبے میں حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے سماجی پہلوؤں کو پوری طرح سمجھا جائے کیونکہ سماجی تناظر کو سمجھے بغیر نہ تو مؤثر پالیسی بن سکتی ہے اور نہ ہی لوگوں کی زندگی آسان اور بہتر ہو سکتی ہے۔
فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور قائداعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم نے کلیدی خطابات پیش کئے۔ پروفیسر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ سماجی علوم اور سماجی رویّے انسانی روح سے جڑے ہوئے ہیں اور زمین پر ہدایت پہلے اتری اور انسان بعد میں آیا اس لئے جب تک انسان زندہ ہے، سماجی علوم بھی زندہ رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ سماجی علوم میں انسانیت، رواداری اور محبت کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ۔
کانفرنس کے کنوینئر پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عامر شاہ اور سیکرٹری ڈاکٹر سلمان علی قریشی نے بھی خطاب کیا اور یونیورسٹیوں کے علمی مکالمے، تحقیقی تعاون اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے سماجی ترقی میں کردار پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کا اہتمام شعبہ برنس ایڈمنسٹریشن نے کیا ۔ اس کانفرنس میں سماجی علوم میں تحقیق کو فروغ دینے کے لئے 166 مقالے پیش کئے جائیں گے۔








