انٹرنیشنل کانفرنس آن ایپلی کیشنز آف سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کل سے شروع ہو گی

اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):انٹرنیشنل کانفرنس آن ایپلی کیشنز آف سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کل )منگل سے انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی میں شروع ہو رہی ہے ۔ تین روزہ کانفرنس سپارکو اور آئی ایس ٹی کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے جس کا موضوع "Space for Sustainable Development" رکھا گیا ہے جو عالمی چیلنجز کے حل میں خلائی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔کانفرنس …

اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):انٹرنیشنل کانفرنس آن ایپلی کیشنز آف سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کل )منگل سے انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی میں شروع ہو رہی ہے ۔ تین روزہ کانفرنس سپارکو اور آئی ایس ٹی کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے جس کا موضوع "Space for Sustainable Development” رکھا گیا ہے جو عالمی چیلنجز کے حل میں خلائی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔کانفرنس کو خطے کی سب سے بڑی خلائی کانفرنس قرار دیا جا رہا ہے جس میں 2,000 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے۔

ان میں 25 ممالک سے 70 سے زیادہ بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں جو ایشیا، یورپ، افریقہ، شمالی امریکا اور اوشیانا سے تعلق رکھتے ہیں۔کانفرنس میں عالمی خلائی اداروں کے سینئر عہدیداران، معروف سائنسدان، محققین، خلاء نورد، پالیسی ساز اور صنعت سے وابستہ ماہرین شریک ہوں گے۔تین روزہ تقریب کا آغاز افتتاحی سیشن سے ہوگا جس کے بعد سیمینارز، پینل مباحثوں، پلینری سیشنز، ماسٹرکلاسز اور تکنیکی سیشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ان سیشنز میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز، موسمیاتی نگرانی، جیو سپیشل انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت کی جدید ایپلی کیشنز جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔اس موقع پر ٹیکنالوجی ایگزیبیشن اور ٹیکنیکل پوسٹر ڈسپلے بھی منعقد کیا جائے گا جس میں دنیا بھر سے جدید ترین خلائی تحقیق اور انوویشنز پیش کی جائیں گی۔کانفرنس کا سب سے دلچسپ حصہ "میٹ دی ایسٹرو ناٹس فورم” ہوگا جس میں ترکیہ، منگولیا اور امریکہ کے خلا نورد طلبہ سے گفتگو کریں گے، اپنے خلائی سفر کے تجربات شیئر کریں گے اور نوجوانوں کو خلائی علوم اپنانے کی ترغیب دیں گے۔

کانفرنس کے دوران جی آئی ایس ڈے 2025 بھی منایا جائے گا جس میں جیو سپیشل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ترقیاتی کردار کو اجاگر کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ISNET کی 14ویں گورننگ باڈی میٹنگ بھی اسی موقع پر منعقد ہوگی جس میں رکن ممالک سائنسی تعاون کے مستقبل پر غور کریں گے۔کانفرنس کے دوران پاکستان قازقستان، تیونس، سینیگال، بنگلہ دیش اور عراق کے اداروں کے ساتھ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کرے گا جن کا مقصد مشترکہ تحقیق، استعداد کار میں اضافہ اور خلائی سائنس کے میدان میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اپنے وسیع ایجنڈے اور عالمی سطح کی شمولیت کے ساتھ کانفرنس پاکستان کو خلائی سائنس کے بین الاقوامی تعاون کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔