اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ا ی سی پی) نے اسلام آباد میں اپنے ہیڈ آفس میں نجکاری کمیشن آف پاکستان اور مختلف اسٹیٹ-اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای )کے افسران کے لئے کمپنیوں کے مرجرز ، املگیمیشنز اور ری سٹرکچرنگ پر ایک جامع تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس …
ایس ای سی پی کا اسٹیٹ-اونڈ انٹرپرائزز کے افسران کیلئے مرجرز اور ری اسٹرکچرنگ پر جامع تربیتی سیشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ا ی سی پی) نے اسلام آباد میں اپنے ہیڈ آفس میں نجکاری کمیشن آف پاکستان اور مختلف اسٹیٹ-اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای )کے افسران کے لئے کمپنیوں کے مرجرز ، املگیمیشنز اور ری سٹرکچرنگ پر ایک جامع تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایس ای سی پی کے چیئرپرسن عاکف سعید نے سیشن کا افتتاح کیا اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں انہوں نے ایس او ای کے لئے سکیمز آف ارینجمنٹ کی منظوری دینے میں ایس ای سی پی کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے مرجرز اور املگیمیشنز کے شعبوں میں ایس او ای افسران کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا کیونکہ یہ ادارے ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سیشن کی قیادت ڈائریکٹر، مرجرز اور ری سٹرکچرنگ ڈیپارٹمنٹ وسیم احمد خان نے کی جنہوں نے سکیمز آف ارینجمنٹ کے گورننگ ایس ای سی پی کے ریگولیٹری فریم ورک اور مرجرز ، املگیمیشنز اور ری سٹرکچرنگ میں شامل طریقہ کار پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔
تربیت میں نجکاری کمیشن سمیت 24 ایس او ای کے تقریباً 50 سینئر افسران نے شرکت کی۔ یہ ایک انتہائی انٹرایکٹو سیشن تھا جس میں سکیمز آف ارینجمنٹ کو نافذ کرنے کے دوران ایس او ای کو درپیش اہم تعمیل کی ضروریات اور ریگولیٹری طریقہ کار پر بات کی گئی۔ تربیت نے قیمتی بصیرت فراہم کی، ادارہ جاتی تفہیم کو بڑھایا اور شرکاء کے درمیان خیالات کے نتیجہ خیز تبادلے کی حوصلہ افزائی کی۔
اپنے اختتامی کلمات میں ایس ای سی پی کے کمشنر مظفر احمد مرزا نے کمپنیز ایکٹ 2017، کارپوریٹ ری ہیبلیٹیشن ایکٹ 2018اور کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016 کے تحت دستیاب مختلف راستوں کو تلاش کر کے بیمار صنعتی اور خسارے میں چلنے والے یونٹس کو دوبارہ فعال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء نے ان قوانین کے تحت کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کے لئے دستیاب متبادل طریقوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔








