اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان نے دنیا کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ سروائیکل کینسر کے خاتمے کا عالمی دن منایا جو کہ عالمی ادارۂ صحت کی اٹھہترویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے فیصلے کے تحت عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس دن کی بنیاد اُس تاریخی اعلان پر ہے جو 17 نومبر 2020 کو کیا گیا تھا، جب 194 ممالک نے سروائیکل کینسر کے …
پاکستان میں پہلی مرتبہ سروائیکل کینسر کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان نے دنیا کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ سروائیکل کینسر کے خاتمے کا عالمی دن منایا جو کہ عالمی ادارۂ صحت کی اٹھہترویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے فیصلے کے تحت عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس دن کی بنیاد اُس تاریخی اعلان پر ہے جو 17 نومبر 2020 کو کیا گیا تھا، جب 194 ممالک نے سروائیکل کینسر کے خاتمے کی عالمی حکمتِ عملی کی حمایت کا عہد کیا تھا۔
رواں سال وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (ایف ڈی آئی) نے گاوی اور سول سوسائٹی کے شراکت داروں خصوصاً ڈوپاسی فاؤنڈیشن کے تعاون سے پاکستان کی پہلی ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم کے تحت پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں 9 سے 14 سال کی عمر کی 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچیوں کو اسکولوں اور صحت مراکز میں یہ مفت ویکسین فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا۔
مہم کے کامیاب اختتام تک 92 لاکھ بچیوں کو یہ ویکسین لگائی جا چکی تھی۔ یکم جنوری 2026 سے ایچ پی وی ویکسین کو باضابطہ طور پر قومی ای پی آئی پروگرام میں شامل کر دیا جائے گا جس سے تمام بچیوں کے لیے حفاظتی ٹیکہ کاری کا یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔
اس عالمی دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عوامی آگاہی میں اضافہ کرنے کے لیے ڈوپاسی فاؤنڈیشن نے وفاقی دارالحکومت میں سروائیکل کینسر آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا جس میں کمیونٹیز، نوجوانوں اور صحت کے کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔
اس واک کا مقصد بیماری سے بروقت بچاؤ، توجہ اور اجتماعی ذمہ داری کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ سروائیکل کینسر پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا کینسرہے، جہاں ہر سال پانچ ہزار سے زائد نئے کیسز اور تقریباً تین ہزار اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔
اس پہلے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی بروقت اور مربوط کاوشیں ، وسیع پیمانے پر ویکسینیشن، عوامی آگاہی مہمات اور کمیونٹی لیول سرگرمیاں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ مضبوط شراکت داری، تربیت یافتہ عملہ اور مؤثر پیغام رسانی کس طرح ایک عالمی ہدف کو عملی حقیقت میں بدل سکتی ہے۔








