سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے قواعد و مراعات کا اجلاس

اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے قواعد و مراعات کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سابق سرکاری افسران کی طرف سے اداروں سے الحاق کے غلط استعمال سے متعلق وسیع ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ہائوس نمبر …

اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے قواعد و مراعات کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سابق سرکاری افسران کی طرف سے اداروں سے الحاق کے غلط استعمال سے متعلق وسیع ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ہائوس نمبر 522، سٹریٹ نمبر 99، سیکٹر آئی-10/4 اسلام آباد کی گمشدہ فائل کے معاملے پر بحث کے دوران کمیٹی چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے سی ڈی اے افسران کی غفلت کی وجہ سے پھنسے ہوئے ایک متاثرہ شخص کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص کو فوری ریلیف دیا جائے، وہ تنخواہ دار طبقے کا فرد ہے۔سی ڈی اے افسران کے لاپرواہ رویے کی وجہ سے اسے کیوں تکلیف دی جائے؟ اس تمام غفلت میں اس کا قصور کیا ہے؟انہوں نے مزید ہدایت کی کہ زیر التواء عدالتی کیس کو تیزی سے نمٹایا جائے اور بغیر تاخیر کے کمیٹی کو فالو اپ رپورٹ پیش کی جائے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی کے ذریعے اپنے ریکارڈ سکین کیے ہیں۔

عدالتوں میں زیر التواء کیسز کے حوالے سے ہم پیشہ ورانہ طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ہم عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔اگر کچھ غلط ہوا تو اس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔اگر معاملہ سول کورٹ میں ہے تو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ہم مختلف رویہ کیسے اختیار کر سکتے ہیں؟لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کیا جا رہا ہے۔سی ڈی اے عدالتوں میں زیر التواء کیسز میں تاخیر کا باعث نہیں بنے گی۔کرپشن میں ملوث افسران کے کیسز ایف آئی اے کو منتقل کئے جا رہے ہیں۔عدالت اس کیس کا فیصلہ کرے، ہم عدالت میں کیس لڑیں گے۔کمیٹی نے متعدد پراپرٹی ٹرانسفرز پر سنگین سوالات اٹھائے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی پلاٹ سی ڈی اے آفس میں پانچ بار کیسے منتقل ہوا؟ سی ڈی اے متاثرین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سی ڈی اے افسران پانچ بار ٹرانسفر کے بارے میں تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔کمیٹی چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے پوچھا کہ اب پانچویں ہاتھ پلاٹ خریدنے والا کہاں جائے؟سی ڈی اے افسران نے مزید انکشاف کیا کہ کیسز میں ملوث ہر فارم ہائوس کی مالیت تقریباً 1.5 ارب روپے ہے اور بہت سے کیسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔سینیٹر پلوشہ خان نے ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تجویز دی کہ غلط الاٹمنٹ سے متعلق تمام کیسز نیب کو منتقل کیے جائیں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے آمادگی ظاہر کی کہ ہم کیسز کے ریکارڈ فراہم کرنے اور معاملہ نیب کو بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی اے کی طرف سے 15-09-2025 کی سفارشات کے حوالے سے پیش کردہ تعمیلی رپورٹ کا جائزہ لیا۔پی ٹی اے نے بتایا کہ اس کا مینڈیٹ صرف پیکا کی دفعہ 37 کے تحت غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے/بلاک کرنے تک محدود ہے۔رضوان رضی کی اپ لوڈ کردہ ویڈیو کا جائزہ لیا گیا اور سندھی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والا قابل اعتراض حصہ پبلشر نے خود ہی ہٹا دیا تھا، اس لیے چینل کی سطح پر بلاکنگ نہیں کی جا سکی۔

پی ٹی اے نے واضح کیا کہ پیکا کے تحت تفتیش اور استغاثہ اس کے مینڈیٹ میں نہیں آتا اور شکایت کنندگان کو مناسب قانونی فورم سے رجوع کرنے کی تجویز دی۔ بلوچستان میں کسٹمز افسران کی تعیناتی پرکمیٹی نے ایف بی آر اور سینیٹ کی مشترکہ ٹیم کی جانچ پڑتال کے بعد بلوچستان میں کسٹمز افسران کی تبادلہ/تعیناتی سے متعلق ایف بی آر کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔تبادلہ کے احکامات انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس پر مبنی تھے جن میں سمگلنگ میں سہولت کاری کا اشارہ تھا۔انسپکٹرز، سپرنٹنڈنٹس سمیت متعدد افسران کو اسی وجہ سے ہٹایا گیا۔

سمگلنگ کے شبہ میں ہٹائے گئے افسران کو بار بار کوششوں کے باوجود واپس نہیں لگایا گیا۔ایف بی آر نے زور دیا کہ ٹھوس دستاویزی ثبوت کے بغیر سخت نظم و ضبط کی کارروائی نہیں کی جا سکتی، جو اینٹی سمگلنگ آپریشنز میں عموماً دستیاب نہیں ہوتے۔”سمگلنگ نیٹ ورک توڑنے“ کا سب سے موثر طریقہ تبادلہ ہی ہے۔جائزہ کے بعد ایف بی آر نے دو افسران کے تبادلہ کے احکامات جاری کر دیئے اور ایک مزید جلد جاری ہوگا۔باقی پانچ افسران کو واپس نہیں لگایا جائے گا کیونکہ اس سے اینٹی سمگلنگ کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

کمیٹی نے سابق نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن اور سابق وائس چانسلر پی آئی ڈی ای ڈاکٹر ندیم الحق سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر ندیم الحق پر ہراسانی کے جرم میں جرمانہ ہو چکا ہے۔پارلیمنٹیرینز کے تئیں بار بار بے اعتنائی کی وجہ سے انہیں پہلے بھی طلب کیا جا چکا ہے۔اس کے باوجود وہ سابق سرکاری عہدوں کا حوالہ دے کر مضامین لکھ رہے ہیں جسے پلاننگ کمیشن نے گمراہ کن، غیر اخلاقی اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔

کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے اور تحریروں سے لگتا ہے کہ ڈاکٹر ندیم الحق دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ میڈیا اداروں کو ان کے مضامین شائع نہ کرنے کی ہدایت کی جائے اور سابق سرکاری عہدوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے رہنما اصول وضع کیے جائیں۔سینیٹر نواب عمر فاروق کاسی کی طرف سے موسویر خان کاکڑ کے اغواء اور قتل کے بارے میں کمیٹی نے 15اگست کو پیش کی گئی پریولیج موشن پر غور کیا جس میں موسویر خان کاکڑ کے اغواء اور پھر لاش کی برآمدگی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔

پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی اور محکمہ نے پچھلے اجلاس میں عدم حاضری پر پیشگی معذرت کی۔ افسران نے بریفنگ دی کہ اغواء کا تعلق ایک جیولری تاجر سے 70 کروڑ روپے تاوان کے مطالبے سے تھا۔تاوان نہ ملنے پر بچے کا قتل کر دیا گیا۔لاش ویران علاقے سے برآمد ہوئی اور پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے۔

چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے کوئٹہ میں بگڑتے ہوئے سکیورٹی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ کمیٹی متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ کے لیے گرائونڈ وزٹ کرے گی۔کمیٹی نے شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کا عزم کیا۔کمیٹی چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے دوبارہ تصدیق کی کہ سینیٹ شفافیت کے حصول میں مسلسل کوشاں رہے گی اور تمام اداروں کو موثر جواب دہی، مکمل ریکارڈ فراہمی اور عوامی مفاد کے تحفظ کا پابند بنایا جائے گا۔