اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان-ایران دو طرفہ سیاسی مشاورت ( بی پی سی) کے تیرہویں دور میں دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں پر جامع تبادلہ خیال کیا اور گزشتہ دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کے دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات (بی پی …
پاکستان-ایران دو طرفہ سیاسی مشاورت کا تیرہواں دور، دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں پر جامع تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):پاکستان-ایران دو طرفہ سیاسی مشاورت ( بی پی سی) کے تیرہویں دور میں دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں پر جامع تبادلہ خیال کیا اور گزشتہ دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کے دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات (بی پی ایس) کا تیرہواں دور 17 نومبر 2025ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی سیاسی امور کے نائب وزیر ماجد تخت روانچی کر رہے تھے ۔ دونوں اطراف کے اعلیٰ عہدیداروں نے مشاورتی مذاکرات میں شرکت کی۔دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں پر جامع تبادلہ خیال کیا اور گزشتہ دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
دو طرفہ تجارت کو بڑھانے اور اس میں تنوع لانے نیز توانائی، نقل و حمل کے روابط، تعلیم اور عوام سے عوام کے تعلقات کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔دونوں فریقوں نے اہمیت کے حامل علاقائی اور عالمی واقعات و رجحانات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ دونوں اطراف نے باہمی مفاد کے شعبوں میں قریبی تعاون کو پروان چڑھانے کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) اور مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) سمیت مختلف اداراتی میکانزم کے باقاعدہ اجلاسوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) اور اقتصادی تعاون کی تنظیم (ای سی او ) سمیت بین الاقوامی فورمز پر تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ عالمی و علاقائی مسائل پر بات چیت کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ مشاورتی مذاکرات پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات کی عکاس ہیں۔ دو طرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات کا اگلا دور تہران میں باہمی طور پر مناسب تاریخوں کے تعین کے بعد منعقد کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔








