اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کے او آئی سی اے) کی ریسرچ ٹیم کے ساتھ پیر کو بریفنگ سیشن کی صدارت کی۔ وفد نے وفاقی وزیر کو پروجیکٹ ’’اسٹیبلشمنٹ آف سیڈ پوٹیٹو پروڈکشن اینڈ سپلائی سینٹر ‘‘ (ایس پی پی ایس سی)کی تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ پیش …
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرصدارت کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کی ریسرچ ٹیم کے ساتھ بریفنگ سیشن کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کے او آئی سی اے) کی ریسرچ ٹیم کے ساتھ پیر کو بریفنگ سیشن کی صدارت کی۔ وفد نے وفاقی وزیر کو پروجیکٹ ’’اسٹیبلشمنٹ آف سیڈ پوٹیٹو پروڈکشن اینڈ سپلائی سینٹر ‘‘ (ایس پی پی ایس سی)کی تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ پیش کی۔
وفاقی وزیر نے کے او آئی سی اے کے وفد کو خوش آمدید کہا اور پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ان کے مستقل تعاون کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے آلو کے بیج کے شعبے میں ایک بروقت اور انقلابی منصوبہ قرار دیا۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں آلو کی کاشت کا وسیع رقبہ موجود ہے لیکن مصدقہ بیج کی بھاری ضرورت پوری کرنے کے لیے ملک کو درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی پی ایس سی منصوبہ پاکستان کو اعلیٰ معیار کے بیج کی ملکی سطح پر تیاری کی طرف لے جائے گا اور درآمدی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔ وفاقی وزیر نے اظہار کیا کہ ایروپونکس اور ٹشو کلچر ٹیکنالوجی میں کوریا کی عالمی مہارت پاکستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے جس کے ذریعے بیج کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے گا، پیداوار میں کم از کم 20 فیصد اضافہ ممکن ہوگا اور ایک لاکھ سے زائد کاشتکاروں کو وائرس فری مصدقہ بیج بآسانی دستیاب ہوگا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس منصوبے کی جلد منظوری اور موثر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی کیونکہ یہ براہ راست قومی فوڈ سکیورٹی اور زرعی جدیدکاری سے جڑا ہوا ہے۔وفد کے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے ڈائریکٹر کے او آئی سی اے جے ہو یون نے پاکستان میں پی اے آر سی کی جانب سے آلو کے بیج پر کی جانے والی تحقیق کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کوریا پاکستان کے ساتھ اپنی زرعی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی زرعی تعاون کا ایک مثالی ماڈل ثابت ہوگا۔
جے ہو یون نے بتایا کہ کوریا نے ایروپونکس، جدید کولڈ چین سسٹمز اور اعلیٰ درجے کے لیبارٹری انفراسٹرکچر کی مدد سے آلو کے بیج کی پیداوار میں عالمی معیار حاصل کیا ہے اور کے او آئی سی اے پاکستان کو یہ مہارت بڑے پیمانے پر منتقل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی بیج کی تیاری کو مضبوط کرے گا بلکہ جدید تربیتی پروگراموں، ای آر پی سسٹمز، ٹریس ایبلٹی اور پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنائے گا۔ انہوں نے پاکستان میں جدید، پائیدار اور مضبوط سیڈ پوٹیٹو پروڈکشن سسٹم قائم کرنے کے لیے کے او آئی سی اے کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی وزیر نے وفد کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسے بین الاقوامی تعاون کو خوش آمدید کہتا ہے جو ٹیکنالوجی، علم اور جدت کو براہ راست کسان تک پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سائنسی بنیادوں پر مبنی زرعی ترقی کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور ایس پی پی ایس سی منصوبہ وائرس فری بیج کی پیداوار، جدید لیبارٹریز، سکرین ہائوسز، ایروپونکس یونٹس اور کولڈ سٹوریج انفراسٹرکچر کا ایک مثالی ماڈل ثابت ہوگا۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی سے نہ صرف کسانوں کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ دیہی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور قومی فوڈ سکیورٹی مزید مضبوط ہوگی۔ اجلاس کا اختتام اس اعتماد کے ساتھ ہوا کہ پاکستان اور کوریا کا زرعی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا اور اس کے مثبت نتائج ملک بھر میں نظر آئیں گے۔








