اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (SIDA) کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اپیل مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی اور تاخیر کے جواز میں کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی، اس لئے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے …
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار ،سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی (SIDA) کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار دے دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ اپیل مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی اور تاخیر کے جواز میں کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی، اس لئے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے تین رکنی بینچ کی جانب سے فیصلہ تحریر کیا جس میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس عقیل احمد عباسی بھی شامل تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایوارڈ کو بطور ڈگری منظور کرنے کے خلاف اپیل 20 روز کے اندر دائر ہونی چاہئے تھی، جیسا کہ آرٹیکل 151، حدودِ مقدمات ایکٹ 1908 کے تحت لازم ہے تاہم اپیل کئی ماہ کی تاخیر سے دائر کی گئی اور تاخیر کی وضاحت میں صرف یہ مؤقف اپنایا گیا کہ ’’ایوارڈ باطل ہے‘‘ جو قانوناً قابلِ قبول بنیاد نہیں۔
عدالت نے کہا کیا کہ اپیل کنندہ نے نہ تو مقررہ مدت میں اعتراضات داخل کئے اور نہ ہی ہر دن کی تاخیر کی وضاحت فراہم کی جو تاخیر ختم کرانے کے لئے ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون اُن کے ساتھ ہے جو اپنے حقوق کے حصول میں چوکسی دکھائیں نہ کہ اُن کے جو غفلت اور سستی سے کام لیں۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانونِ میعاد (Limitation) عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے اور فیصلوں میں قطعیت پیدا کرنے کے لئے نافذ ہے اور اس میں مداخلت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تاخیر کی وجہ تسلیبخش ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے قانونی تقاضوں کے مطابق درست فیصلہ دیا تھا اس لئے اس میں مداخلت کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ نتیجتاً سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔








