اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابا ت کے فوری انعقاد کا اعلان کر دیاہے۔منگل کو الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اسلام آباد کی لوکل گورنمنٹس کی معیاد 14 فروری 2021ء کوختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 140-A،219 …
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابا ت کے فوری انعقاد کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابا ت کے فوری انعقاد کا اعلان کر دیاہے۔منگل کو الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اسلام آباد کی لوکل گورنمنٹس کی معیاد 14 فروری 2021ء کوختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 140-A،219 اور 120 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد کرنے کے پابند ہیں، لیکن یہ انتخابات کئی وجوہات کی بنیاد پر ملتوی ہوتے رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے 5 دفعہ حلقہ بندی کی اور 3 دفعہ الیکشن شیڈول دیا ،متعلقہ اداروں سے خط و کتابت بھی کی گئی ،مگر بلدیاتی الیکشنز کا انعقاد نہ ہو سکا۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کے انعقاد کیلئے 13 نومبر 2025ء کو کیس کی باقاعدہ سماعت کی اور الیکشن کے انعقاد کا فیصلہ 17 نومبر 2025ء کو صادر کیا اور دفتر کو ہدایت کی کہ وہ الیکشن شیڈول کو فوراً پیش کریں۔ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015ء کے سیکشن(2) 15 میں حالیہ ترمیم جس میں سیکرٹری یونین کونسل کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ آئین و قانون سے متصادم ہے اور الیکشن کمیشن کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن سیکرٹری یونین کونسل کی ذمہ داری ہو۔
الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 218(3) بطور خاص، نیز آرٹیکلز 140-A، 220، 219 اور 222 اور الیکشنز ایکٹ 2017ء کی دفعات 50، 219 اور 224 کے تحت اپنے اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے قرار دیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن(2)15 میں کی گئی حالیہ ترمیم آئین و قانون سے متصادم ہے ۔
لہذا الیکشنز ایکٹ 2017ء اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015ء کی متعلقہ دفعات کے تحت ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کی تعیناتی کا اختیار کمیشن کو حاصل ہے جو اپنے افسران، عدلیہ یا انتظامیہ کے افسران و اہلکاران کو بطور ریٹرننگ آفیسر اور انتخابی عملہ تعینات کر سکتا ہے۔
سیکرٹری یونین کونسل "سرکاری افسر” کی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتا، لہذا اسے پریذائنڈنگ افسر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابی عمل انہی افسران کے ذریعے منعقد ہوگا جن کی تقرری بذریعہ نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کرے گا۔








