اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):پاکستان میں او آئی سی کے ذیلی ادارے کامسٹیک سیکرٹریٹ میں ’’ذیابیطس اور میٹابولک امراض کے علاج میں جڑی بوٹیوں اور پودوں کے موثر استعمال اور ان کی کلینیکل توثیق‘‘ کے عنوان سے دو روزہ علاقائی سیمینار کا آغاز ہوگیا ہے۔ سیمینار کامسٹیک اور ایشیائی نیٹ ورک برائے ذیابیطس مخالف پودوں کی تحقیق (اے این آر اے پی) کے اشتراک سے منعقد ہوا جس میں پاکستان، …
ذیابیطس نہ صرف صحت بلکہ خاندانوں اور ملکی معیشت کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے، وفاقی وزیر صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):پاکستان میں او آئی سی کے ذیلی ادارے کامسٹیک سیکرٹریٹ میں ’’ذیابیطس اور میٹابولک امراض کے علاج میں جڑی بوٹیوں اور پودوں کے موثر استعمال اور ان کی کلینیکل توثیق‘‘ کے عنوان سے دو روزہ علاقائی سیمینار کا آغاز ہوگیا ہے۔ سیمینار کامسٹیک اور ایشیائی نیٹ ورک برائے ذیابیطس مخالف پودوں کی تحقیق (اے این آر اے پی) کے اشتراک سے منعقد ہوا جس میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، آسٹریلیا، مصر، برطانیہ اور دیگر ممالک کے 20 سے زائد ممتاز ماہرین شریک ہوئے جبکہ افتتاحی تقریب میں مختلف ممالک کے سفراء، ماہرین صحت، طلبہ سمیت 150 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ا
فتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ہر چار میں سے ایک بالغ شخص اس مرض یا پری ڈایابیٹک حالت کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری نہ صرف صحت بلکہ خاندانوں اور ملکی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ذیابیطس تمام بیماریوں کی ماں ہے اور ہسپتال جتنے بھی بنا لیں ہر مریض کا مکمل علاج ممکن نہیں، اصل حل پرہیز، آگاہی اور مضبوط ہیلتھ کیئر سسٹم ہے۔
اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت بڑے سرکاری ہسپتالوں میں روایتی اور نباتاتی ادویات کے لیے خصوصی میڈیکل ڈیسک قائم کرے گی تاکہ عوام کم لاگت اور محفوظ علاج کے قابل رسائی طریقوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت، کامسٹیک اور تحقیقی اداروں کی تمام تحقیق اور سائنسی سرگرمیوں کی مکمل سرپرستی جاری رکھے گی۔او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (سائنس و ٹیکنالوجی) آفتاب احمد کھوکھر نے اپنے آن لائن خطاب میں کہا کہ یہ سیمینار او آئی سی کے سائنس و ٹیکنالوجی ایجنڈا 2026 کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کامسٹیک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مسلم دنیا میں سائنسی تعاون، استعداد کار میں اضافے اور جنوب-جنوب اشتراک کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پودوں پر مبنی ادویات کے لیے معیار بندی، کلینیکل جانچ اور ریگولیٹری ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انہیں محفوظ اور موثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ دنیا دیرینہ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، کمزور صحت کے نظام، آب و ہوا کی تبدیلی اور سائنسی تحقیق کی کمی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک خصوصاً بیماریوں کی سائنسی، جینیاتی اور مالیکیولر سطح پر تحقیق کے بڑے خلا سے دوچار ہیں جسے دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی بیشتر بیماریاں علاج کے بجائے صرف مینیج کی جا رہی ہیں جن میں ذیابیطس، ڈیمینشیا، دل کی بیماریاں اور دیگر دائمی امراض شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا صحت نظام احتیاط، بہتر غذائی عادات، صاف پانی، صحت مند ماحول اور مضبوط سائنسی ریسرچ پر مبنی ہونا چاہیے۔پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ہم صحت کے لیے دوبارہ فطرت یعنی طرز زندگی، غذا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ نباتاتی ادویات کی طرفلوٹیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی ممتاز سائنسدان وایشیائی نیٹ ورک برائے ذیابیطس مخالف پودوں کی تحقیق (اے این آر اے پی) کی سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر بیگم رقیہ نے کہا کہ ایشیا اور او آئی سی ممالک میں جڑی بوٹیوں اور پودوں کی بے پناہ اقسام موجود ہیں جن کی سائنسی توثیق، معیار بندی اور مشترکہ تحقیق نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد انہی شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر اقبال حسین خان نے کہا کہ 2024 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازیں رواں ماہ کے آخر تک دوبارہ شروع ہوجائیں گی جس سے تحقیق، صحت، تعلیم، تجارت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔
ہائی کمشنر نے کامسٹیک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کامسٹیک مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق اور تعاون کا انتہائی موثر پلیٹ فارم ہے جو خطے کے ممالک کو نہ صرف قریب لاتا ہے بلکہ حقیقی معنوں میں مشترکہ تحقیق کے مواقع پیدا کرتا ہے۔انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کی پیشہ ورانہ مہارت کو بھی سراہا۔سیمینار (کل) بدھ کوبھی پودوں پر مبنی ادویات، کلینیکل تحقیق، پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اور ریگولیٹری امور سے متعلق سائنسی سیشنز کے ساتھ جاری رہے گا۔








