وینزویلا ، ماریا کورینا ماچادو نے نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر "آزادی کا منشور” شائع کردیا

کراکس ۔19نومبر (اے پی پی):وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے ملک کے صدر نکولس مادورو کے اقتدار کے خلاف اپنی نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر ایک "آزادی کا منشور" شائع کیا ہے۔سی این این کے مطا بق یہ چار صفحات پر مشتمل دستاویز 9 نومبر کو تیار کی گئی تھی لیکن منگل کے روز عوام کے سامنے لائی گئی۔ منشور میں ماچادو نے ملک کے لیے …

کراکس ۔19نومبر (اے پی پی):وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے ملک کے صدر نکولس مادورو کے اقتدار کے خلاف اپنی نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر ایک "آزادی کا منشور” شائع کیا ہے۔سی این این کے مطا بق یہ چار صفحات پر مشتمل دستاویز 9 نومبر کو تیار کی گئی تھی لیکن منگل کے روز عوام کے سامنے لائی گئی۔

منشور میں ماچادو نے ملک کے لیے ایک "نیا دور” کی تصویر پیش کی ہے، جس میں تمام شہریوں کے بنیادی جمہوری حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جن میں ووٹ دینے، اجتماع کرنے اور آزادی اظہار رائے شامل ہیں۔ اس میں امریکی آزادی اعلامیہ جیسے دیگر جمہوری ڈھانچوں سے بھی زبان مستعار لی گئی ہے اور حکومت سے طاقت کی مرکزیت ہٹانے اور عوام کو واپس دینے پر زور دیا گیا ہے۔

ماریا کوریناماچادو نے ایک غیر معلوم مقام سے 15 منٹ کی ویڈیو میں پورے منشور کو پڑھتے ہوئے کہا کہ مادورو کی طاقت پر گرفت ختم ہونے والی ہے اور ایک نیا وینزویلا سامنے آئے گا ۔ماریا کورینا ماچادو کے اعلان کے ایک ہی دن، صدر مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی پیش کش کرتےہوئے کہا کہ جو بھی وینزویلا سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ آمنے سامنے کرے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے کیریبین کے ساحل کے نزدیک وینزویلا کے خلاف فوجی تیاریاں تیز کر رکھی ہیں، جس میں 15 ہزار فوجی اور بارہ سے زائد جنگی جہاز شامل ہیں۔ماریاکوریناماچادو نے اپنی دستاویز میں مادورو کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، قتل اور جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ منشور زیادہ تر بین الاقوامی کمیونٹی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں مقامی مفاہمت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید خبریں