تعلیم کسی بھی قوم کیلئے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، وفاقی وزیر خالد حسین مگسی

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کیلئے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے،پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو تحقیق، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، معاشی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدیدیت کے ذریعے عالمی معیار کا مقابلہ کر سکیں۔وفاقی وزیر نے بدھ کوکامسیٹس یونیورسٹی واہ کیمپس کے کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں انہوں نے …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کیلئے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے،پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو تحقیق، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، معاشی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدیدیت کے ذریعے عالمی معیار کا مقابلہ کر سکیں۔وفاقی وزیر نے بدھ کوکامسیٹس یونیورسٹی واہ کیمپس کے کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کیں اور ان کے تعلیمی سفر کی تکمیل پر مبارک باد پیش کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کا سب سے طاقتور سرمایہ ہے۔

انہوں نے اس موقع پر نوجوان نسل کو پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے جدید، تخلیقی اور حل تلاش کرنے والی سوچ کو فروغ دینا بے حد ضروری ہے۔ خالد حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو تحقیق، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، معاشی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل جدیدیت کے ذریعے عالمی معیار کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ جدید تحقیق، اختراعات اور ہنر پر مبنی تعلیم ہی پاکستان کو ترقی کے نئے دور میں داخل کر سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ملکی معیشت، ٹیکنالوجی اور معاشرتی ہم آہنگی کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ جہاں بھی جائیں، علم، اخلاق، جدت اور قیادت کو اپنا اصول بنائیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ نہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کی صلاحیتوں سے وابستہ ہے، اور آج کے یہ فارغ التحصیل طلبہ ہمارے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔

” آخر میں، وفاقی وزیر نے کامسیٹس یونیورسٹی واہ کیمپس کے اساتذہ، انتظامیہ اور والدین کو بھی سراہا جنہوں نے طلبہ کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی پاکستان میں تحقیقی ماحول کو بہتر بنانے اور علمی اداروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔