اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے سربراہ کا کوپ 30 میں پیش رفت پر اظہارِ اطمینان، مزید تیز رفتار اقدامات کی اپیل

بیلم۔20نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے سربراہ سائمن اسٹیئل نے کہا ہے کہ دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے اور ماحولیاتی اقدامات میں پیش رفت کے باوجود اب فوری اور بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیلم میں جاری 30ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ 30) کے گلوبل کلائمیٹ ایکشن ہائی لیول اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے …

بیلم۔20نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے سربراہ سائمن اسٹیئل نے کہا ہے کہ دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے اور ماحولیاتی اقدامات میں پیش رفت کے باوجود اب فوری اور بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیلم میں جاری 30ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ 30) کے گلوبل کلائمیٹ ایکشن ہائی لیول اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ تقسیم شدہ دنیا میں بھی موسمیاتی تعاون مضبوطی سے قائم رہے۔

انہوں نےکوپ 30ایکشن ایجنڈا کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایجنڈا دنیا کو حقیقی تبدیلی کی سمت لے جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں قابل تجدید توانائی، بجلی کے گرڈ کی بہتری، پائیدار ایندھن کی پیداوار میں چار گنا اضافہ، نئی سبز صنعتوں کے قیام اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ جیسے نمایاں اقدامات سامنے آئے ہیں۔سائمن اسٹیئل کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے اپنی قومی ماحولیاتی حکمتِ عملیوں میں جامع اور ہمہ جہتی منصوبہ بندی کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے، جو چند سال پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ وقت جشن منانے کا نہیں بلکہ رفتار تیز کرنے کا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ایسے نتائج فراہم کرنا ہوں گے جو لوگوں، معیشتوں اور کرۂ ارض کے لیے حقیقی اور قابلِ پیمائش ہوں۔کوپ 30 ایکشن ایجنڈا کے تحت 30 ترجیحی اہداف مقرر کیے گئے ہیں جن میں توانائی، صنعت، ٹرانسپورٹ، جنگلات، سمندری و حیاتیاتی نظام، زراعت اور خوراک کے نظام کی بہتری شامل ہے، تاکہ دنیا کو کم اخراج اور زیادہ لچکدار مستقبل کی جانب بڑھایا جا سکے۔کانفرنس 10 نومبر کو شروع ہوئی تھی اور 21 نومبر تک جاری رہے گی، جبکہ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔