ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف متعدد “ہائی پروفائل” حملے کر چکی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔20نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی حمایت یافتہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) پاکستان کے خلاف متعدد “ہائی پروفائل” حملے کر چکی ہے، جن میں بعض میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا۔اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نائب مستقل مندوب اور 1267 القاعدہ سینکشنز کمیٹی کی سربراہ ایمبسڈر سینڈرا جنسن لانڈی نے سلامتی …

اقوام متحدہ ۔20نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی حمایت یافتہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) پاکستان کے خلاف متعدد “ہائی پروفائل” حملے کر چکی ہے، جن میں بعض میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا۔اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نائب مستقل مندوب اور 1267 القاعدہ سینکشنز کمیٹی کی سربراہ ایمبسڈر سینڈرا جنسن لانڈی نے سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 6ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ٹی ٹی پی علاقے سے ایک سنگین خطرہ ہے اور اسے طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے لاجسٹک اور مالی معاونت حاصل ہے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب اقوام متحدہ عثمان جدون نے بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے عالمی اقدامات میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہے، اور اس نے اس جنگ میں 80ہزار سے زائد جانوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اور اربوں ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے افغانستان سے لاحق دہشت گردی کے خطرات کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں جہاں داعش خراسان ، ٹی ٹی پی اور ان سے منسلک بی ایل اے اور اس کی زیلی تنظیم مجید بریگیڈ جیسے گروہ اپنے میزبانوں کی سرپرستی میں اور ہمارے مخالف ملک جس کا کام ہی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے ،کی حمایت سے کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ 1267 القاعدہ سینکشنز کمیٹی کے پابندیوں کے نظام کو “زمینی حقائق” کے مطابق ہونا چاہیے اور فہرست میں شامل یا خارج کرنے کے مسائل انصاف، شفافیت اور سیاسی اثرات کے بغیر حل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی فریم ورک کو پرتشدد اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے ضروری اوزار رکھنے چاہیے۔اس موقع پر چینی مندوب نے کمیٹی سے بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کرنے کی اپیل کی، تاکہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا مضبوط پیغام دیا جا سکے۔