ابوظہبی۔20نومبر (اے پی پی):ٹیکنالوجی گروپ جی42 نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جدید اے آئی سیمی کنڈکٹرز کی برآمد کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان قائم اے آئی کورِیڈور کو منصوبہ بندی سے عملی عمل درآمد کے مرحلے میں لے جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور محفوظ، اسکیل ایبل اے آئی ڈھانچے کے مشترکہ عزم کی عکاسی …
ٹیکنالوجی گروپ جی42 کے لیے جدید اے آئی چپس کی برآمد کی منظوری، یو اے ای-امریکا تکنیکی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل

مزید خبریں
ابوظہبی۔20نومبر (اے پی پی):ٹیکنالوجی گروپ جی42 نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جدید اے آئی سیمی کنڈکٹرز کی برآمد کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان قائم اے آئی کورِیڈور کو منصوبہ بندی سے عملی عمل درآمد کے مرحلے میں لے جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور محفوظ، اسکیل ایبل اے آئی ڈھانچے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق اس پیش رفت سے یو اے ای میں جاری بڑے بنیادی منصوبوں کی رفتار مزید تیز ہوگی، جن میں اسٹار گیٹ یو اے ای بھی شامل ہے، یہ 1 گیگاواٹ کمپیوٹ کلسٹر ہے جو جی42، اوپن اے آئی، اوریکل، سسکو، این ویڈیا اور سافٹ بینک گروپ کے اشتراک سے تیار کر رہا ہے۔ اسٹار گیٹ یو اے ای دراصل 5 گیگاواٹ یو اے ای-امریکا اے آئی کیمپس کا حصہ ہے جو خطے کے لیے وسیع کمپیوٹنگ صلاحیت اور کم لیٹنسی اے آئی انفیرنسنگ فراہم کرے گا۔ یہ اقدام مائیکروسافٹ، اے ایم ڈی، کوالکوم، سیریبراز اور دیگر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
امریکی چپس کی لائسنسنگ ایک ایسے مشترکہ فریم ورک پر قائم ہے جو دونوں ممالک نے قریبی تعاون سے ترتیب دیا ہے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کی محفوظ عالمی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ ان چپس کا استعمال ریگولیٹڈ ٹیکنالوجی ماحولیات کے تحت ہوگا، یہ جدید تکنیکی اور کمپلائنس نظام جی42 نے تیار کیا ہے اور اسے امریکی وزارتِ تجارت اور بی آئی ایس کے رہنما اصولوں کے مطابق منظور کیا گیا ہے۔جی42 کے گروپ سی ای او پینگ شیاو نے اس فیصلے کو ایک تاریخی مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ انفراسٹرکچر ماڈل محفوظ اور اعلیٰ کارکردگی رکھنے والی کمپیوٹنگ کے نئے معیارات طے کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہم یو اے ای میں جو تعمیر کر رہے ہیں، اسے امریکا میں بھی اسی معیار کے ساتھ آگے بڑھائیں گے تاکہ دونوں جانب اعتماد اور توازن برقرار رہے۔مصنوعی ذہانت اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل خالدون خلیفہ المبارک نے کہا کہ یہ فیصلہ یو اے ای–امریکہ تعلقات میں اعتماد کی گہرائی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی ترقی کے ساتھ ساتھ استحکام، معاشی لچک اور طویل المدتی تعاون کا ذریعہ بنے گی۔
جی42 اس وقت دنیا کے ٹاپ500 سپر کمپیوٹرز میں شامل تین فعال کمپیوٹرز کا مالک ہے، جن میں سے دو خطے میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ کمپنی نے حال ہی میں نیویارک میں اپنے نئے میکسمس -01 سپر کمپیوٹر کا اعلان بھی کیا ہے جو عالمی سطح پر 20ویں نمبر پر ہے۔ جی42 کا بڑھتا ہوا اے آئی نیٹ ورک ابوظہبی کے ساتھ ساتھ فرانس اور امریکہ کی مختلف ریاستوں، جن میں کیلیفورنیا، مینیسوٹا، ٹیکساس اور نیویارک شامل ہیں، تک پھیلا ہوا ہے۔








