تائیوان پر مؤقف غیر تبدیل شدہ کہنے کے باوجود سرحد پار نہ کی جائے، چین کا جاپان کو انتباہ

بیجنگ ۔21نومبر (اے پی پی):چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر "مؤقف کے غیر تبدیل شدہ ہونے" کا دعویٰ کرتے ہوئے بتدریج سرخ لکیر عبور نہ کرے۔ شنہوا کے مطابق یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ متعدد اعلیٰ جاپانی حکام نے وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کے حالیہ تائیوان سے متعلق ریمارکس کا دفاع کیا ہے۔ …

بیجنگ ۔21نومبر (اے پی پی):چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر "مؤقف کے غیر تبدیل شدہ ہونے” کا دعویٰ کرتے ہوئے بتدریج سرخ لکیر عبور نہ کرے۔ شنہوا کے مطابق یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ متعدد اعلیٰ جاپانی حکام نے وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کے حالیہ تائیوان سے متعلق ریمارکس کا دفاع کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے بیانات حکومت کے موجودہ مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے، اور جاپان انہیں واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔روزانہ کی پریس بریفنگ میں ماؤ نِنگ نے کہا کہ تائیوان کے مسئلے پر جاپانی حکومت کو ایک چین کے اصول پر کاربند رہنا چاہیے اور چین۔جاپان کے درمیان طے شدہ چار سیاسی دستاویزات میں موجود رہنما اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے نہ کہ متعلقہ تصورات کو دھندلانے یا تاریخ کا رخ موڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترجمان کے مطابق تائیوان کا چین کے ساتھ دوبارہ الحاق دوسری جنگِ عظیم میں فتح کا نتیجہ اور جنگ کے بعد کی بین الاقوامی ترتیب کا لازمی حصہ ہے، اور اسے کوئی تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ماؤ نِنگ نے کہا کہ اگر واقعی جاپان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، تو اس کے رہنماؤں کو تائیوان کے سوال کو کسی بھی طرح کے "وجودی خطرے” سے جوڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ محض "پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں” کہہ دینا چین کی تشویش دور نہیں کرتا۔ترجمان نے جاپان پر زور دیا کہ وہ چین کے سنجیدہ مؤقف کا احترام کرے، متنازع بیانات واپس لے، اور اپنے وعدوں کو عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرے۔